رسائی کے لنکس

logo-print

1969 میں بھیجا جانے والا مبارک باد کا تار 50 سال بعد موصول


پروفیسر رابرٹ فینک ٹیلی گرام وصول کرتے ہوئے

امریکی ریاست مشی گن کے ایک رہائشی رابرٹ فینک کی خوشی اس ہفتے قابل دید تھی۔ اُنہیں مبارک باد کا وہ تار بالآخر مل ہی گیا ہے جو اُنہیں اب سے ٹھیک 50 سال پہلے بھیجا گیا تھا۔

ہوا کچھ یوں کہ رابرٹ فینک نے 1969 میں جب مشی گن یونیورسٹی سے اپنی ڈگری مکمل کی تو اُن کے خاندانی دوستوں نے اُنہیں ٹیلی گرام کے ذریعے مبارکباد کا پیغام بھیجا۔ تاہم یہ ٹیلی گرام بوجوہ رابرٹ تک نہ پہنچ سکا۔

ٹیلی گرام 1969 میں ہی این آربر اپارٹمنٹ بلڈنگ میں پہچ گیا تھا جہاں رابرٹ اپنے تین ہم جماعتوں کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ تاہم رابرٹ یہ ٹیلی گرام پہنچنے سے ایک روز قبل نیویارک چلے گئے جہاں اُنہوں نے ایم۔ اے۔ میں داخلہ لے لیا تھا۔

این آربر اپارٹمنٹ اب ڈیجٹل مارکٹنگ کمپنی ’’آئیکون‘‘ کے زیر استعمال ہے۔ اس کمپنی کی ایک ملازم خاتون کرسٹینا زسکے نے گزشتہ سال دسمبر میں ایک پرانی الماری کا شیلف کھولا تو اُنہیں اُس میں کاغذ کا ایک ٹکڑا بھی دکھائی دیا۔

جب اُنہوں نے اسے اُٹھا کر پڑھا تو وہ رابرٹ فینک کے نام ڈگری مکمل کرنے کی مبارکباد کا پیغام تھا۔

ٹیلی گرام کا متن
ٹیلی گرام کا متن

کرسٹینا کا کہنا تھا کہ جب اُنہوں نے اسے کھولا تو اُن میں یہ تجسس پیدا ہوا کہ ٹیلی گرام کی شکل و صورت کیسی ہوا کرتی تھی۔

اُن کا کہنا ہے کہ ٹیلی گرام پر رابرٹ فینک کا نام درج تھا۔ اُنہوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے رابرٹ کا پتا تلاش کیا اور پھر یہ ٹیلی گرام اُن کو بذریعہ ڈاک روانہ کر دیا۔

رابرٹ فینک اب ڈیٹرائیٹ کی آکلینڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ یہ جگہ این آربر سے لگ بھگ 45 میل شمال مشرق میں واقع ہے۔

کرسٹینا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں یہ جان کر سخت حیرت ہوئی کہ جس کے نام یہ ٹیلی گرام بھیجا گیا تھا، آخر اُن تک یہ کیوں نہیں پہنچا۔ کرسٹینا اب خوش ہیں کہ ٹیلی گرام بالآخر رابرٹ تک پہنچ گیا ہے۔

پروفیسر رابرٹ کا کہنا ہے کہ اس ٹیلی گرام نے اُنہیں ماضی کی خوشگوار یادوں سے جوڑ دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ٹیلی گرام ملنے کے بعد انہیں یہ دکھ ہے کہ وہ مبارکباد کا یہ پیغام بھیجنے والے بین اور لیلین فش مین کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے کیونکہ وہ دونوں ہی اب حیات نہیں ہیں۔

پروفیسر رابرٹ کا کہنا ہے کہ اُنہیں اس بات کا احساس ہے کہ آج کے زمانے میں چند لمحوں کے اندر ٹیکسٹ میسج بھیج دیا جاتا ہے جب کہ ماضی میں کسی کو پیغام بھیجنا اتنا آسان کام نہیں تھا۔ اُس زمانے میں ٹیلی گرام بھیجنے کے لئے باقاعدہ وقت نکال کر ٹیلی گرام آفس جانا پڑتا تھا۔ اس لیے 50 برس کے بعد پہنچنے والے ٹیلی گرام نے اُن کے دل کو چھو لیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG