رسائی کے لنکس

logo-print

مشرقِ وسطیٰ مذاکرات: عرب لیگ کی مشروط حمایت


جمعرات کو عرب لیگ کے وزرائےخارجہ نے فلسطینیوں اوراسرائیل کےدرمیان براہِ راست بات چیت کی توثیق کی ہے ،لیکن اُس کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات اُسی وقت ہو سکتےہیں جب فلسطینی اِن کے لیے تیار ہوں۔

قاہرہ میں ہونے والے اجلاس کی قطر کے وزیر اعظم شیخ حماد بن جاسم الثانی نےصدارت کی۔ اُنھوں نےکہا کہ براہِ راست مذاکرات کے لیےضروری ہے کہ پہلے اِس بات پراتفاق رائے ہو کہ کن موضوعات پر بات ہوگی۔

وزرائے خارجہ نے فلسطینی صدرمحمود عباس سےملاقات کی جنھوں نے اُس وقت تک براہِ راست بات چیت شروع کرنے سے انکار کیا ہے جب تک اسرائیل متنازعہ علاقے میں بستیوں کی تعمیرختم نہیں کردیتا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجامن نتن یاہو نے کہا کہ وہ اگلے چند دِٕنوں کےاندر اندربراہِ راست بات چیت شروع کرنے کےحق میں ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلی نےکہا کہ واشنگٹن کو قاہرہ میں حاصل ہونے والی پیش رفت سے حوصلہ ملا ہے۔

کراؤلی نے کہا کہ اوباما انتظامیہ کو عرب وزرائے خارجہ کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے جِس میں براہِ راست بات چیت کے بارے اُن کے مؤقف اور اُن کی تشویش کا ذکر کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ خط کے مندرجات کا جائزہ لیا جائے گا۔

امریکہ ، فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کو بحال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی جارج مچل مئی سے فریقین سے باری باری ملتے رہے ہیں۔ اُن کی کوشش ہے کہ براہِ راست بات چیت پر رضامند ہو جائیں۔

اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی مسٹرعباس، عرب لیگ کے سکریٹری جنرل اور مصر کے وزیرِ خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فون رابطے میں فریقین کے درمیان براہِ راست بات چیت پر زور دیا۔

XS
SM
MD
LG