رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی شہریت یہیں پیدا ہونے والے پناہ گزینوں کا حق ہے: عمران خان


فائل فوٹو

عمران خان نے کہا، "پاکستان میں پیدا ہونے والے مہاجرین کے بچوں کا معاملہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے اور ان لوگوں کے بارے میں ہمیں فیصلہ کرنا ہے۔"

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں مقیم دوسرے ملکوں کے مہاجرین کے ملک میں پیدا ہونے والے بچے پاکستان کے قانون کے مطابق شہریت حاصل کرنے کا حق دار ہیں۔

وزیرِ اعظم نے یہ بات گزشتہ ہفتے کراچی میں پاکستان میں مقیم مہاجرین سے متعلق دیے گئے اپنے بیان کی منگل کو قومی اسمبلی میں وضاحت کرتے ہوئے کہی۔

عمران خان نے کہا، "پاکستان میں پیدا ہونے والے مہاجرین کے بچوں کا معاملہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے اور ان لوگوں کے بارے میں ہمیں فیصلہ کرنا ہے۔"

تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ وہ خاص طور پر کراچی میں مقیم بنگالی مہاجرین کے پاکستان میں پیدا ہونے والوں بچوں کی بات کر رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ بنگالی مہاجرین گزشتہ 40، 50 سال سے کراچی میں مقیم ہیں اور بقول ان کے "ان کے پاس پاکستانی شہریت نہیں ہے اور نہ ہی انہیں ملک سے باہر بھیج سکتے ہیں۔"

وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب اس بارے میں سوال اٹھایا کہ ان کا معاملہ کیسے حل کرنا ہے؟

وزیرِ اعظم نے کہا کہ "شہریت سے متعلق پاکستانی قانون 1951ء کے ایکٹ کے مطابق جو بچے پاکستان میں پیدا ہوتے ہیں، وہ پاکستان کی شہریت کے حق دار ہیں۔ یہ صرف پاکستان میں نہیں۔۔۔ دنیا کے ملکوں میں ایسا ہی ہے۔ جو بچے جس ملک میں پیدا ہوتے ہیں انہیں خود بخود یہ حق حاصل ہو جاتا ہے۔""میں انسانیت کے تقاضے پر کہہ رہا ہوں کہ وہ انسان ہیں اور اگر آج ان کا فیصلہ نہیں کریں گے تو کب کریں گے؟"

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا وہ صرف مہاجرین کے پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی کنونشن کے تحت مہاجرین کو زبردستی ان کے ملک نہیں بھیج سکتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ساتھ مل کر افغان مہاجرین کی رضا کارانہ واپسی کے لیے کام کر رہی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو یہاں سیٹل ہو گئے ہیں اور ان کی یہاں شادیاں ہو گئی ہیں، ان کے لیے خاص طور پر پالیسی وضع کرنی پڑے گی کہ وہ غیر شہری کے طور پر یہاں نہیں رہ سکتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور اس کے بارے میں کبھی نہ کبھی تو پاکستان کو فیصلہ کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا، "اگر یہ لوگ اسی حالت میں یہاں رہیں گے۔۔۔ کراچی کے اندر میں اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہورہا ہے۔ وہ اسی وجہ سے ہے۔ کیونکہ یہ لوگ شناختی کارڈ نہ ہونے سے نہ تو تعلیم حاصل کرسکتے ہیں، نہ ہی وہ روزگار حاصل کرسکتے ہیں۔"

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی سابق چیئرپرسن زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ یہ یقینی طور پر انسانیت اور انسانی حقوق کو مسئلہ ہے تاہم ان کے بقول جس طرح حکومت ایک اعلان کے ذریعے اس معاملے کو حل کرنے کا کہہ رہی ہے اس سے اور مسائل بھی اٹھ سکتے ہیں۔

منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پارلیمان میں بحث ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ پاکستان میں بہت سے کمونیٹیز ہیں جنہیں اس پر اعتراض ہو سکتا ہے۔

ان کے بقول بلوچستان میں بلوچ کہ سکتے ہیں کہ یہاں افغان مہاجرین کو آباد کر کے بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جارہا ہے اور ایسی صورت میں ان کے تحفظات کا ازالہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے انہی تحفظات کی تناظر میں تجویز دی کہ اس معاملے پر پارلیمان اور صوبائی اسملیوں میں بحث کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔

عمران خان نے اتوار کو کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے کہا تھا کہ بنگلہ دیش اور افغانستان سے آکر شہر میں بسنے والے افراد کے پاس شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں روزگار نہیں ملتا اور وہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔

وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب کئی دہائیوں سے پاکستان میں رہنے والے مہاجرین اور ان کے یہیں پیدا ہونے والے بچوں کو پاکستان کی شہریت دینے کا عندیہ دیا تھا جس پر مختلف قوم پرست جماعتوں اور حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں مختلف ممالک کے مہاجرین کلاکھوں کی تعداد میں مقیم ہیں جن میں زیادہ تعداد بنگالیوں اور افغان مہاجرین کی ہے۔

سندھی اور بلوچ قوم پرست ان تمام مہاجرین کی مکمل واپسی کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG