رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کا روس کی مارکیٹ میں بم حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ


ایک تفتیش کار جائے وقوع سے شواہد جمع کر رہا ہے

شدت پسند تنظیم داعش نے رواں ہفتے روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں ہونے والے بم حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

تنظیم سے وابستہ 'عماق نیوز ایجنسی' نے جمعہ کو دیر گئے شدت پسندوں کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا کہ یہ دھماکا داعش سے منسلک ایک گروپ نے کیا۔

اس بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔

بدھ کو سینٹ پیٹرزبرگ کی ایک مصروف مارکیٹ میں گھریلو ساختہ بم دھماکے سے کم از کم 13 افراد زخمی ہوئے تھے۔

تفتیش کاروں نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کی تھیں اور اسے اقدام قتل کی ایک کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

لیکن جمعرات کو روس کے صدر ولادیمر پوتن کا کہنا تھا کہ یہ دھماکا ایک دہشت گرد کارروائی تھی۔

شام میں فرائض انجام دینے والے روسی فوجیوں کے اعزاز میں کریملن میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوتن نے زور دیا کہ یہ بم حملہ دہشت گردوں کی طرف سے کیا گیا۔

شام اور عراق میں 2014ء میں شدت پسند داعش نے ایک وسیع علاقے پر قبضہ کر کے وہاں نام نہاد خلافت اعلان کیا تھا اور اس تنظیم کے خلاف ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مقامی فورسز کی معاونت کی جب کہ شام میں روس صدر بشار الاسد کی مدد کے لیے پہنچا تھا۔

بین الاقوامی فورسز کی مدد سے کی جانے والی کارروائیوں کی وجہ سے داعش اپنے زیر قبضہ علاقہ کا کنٹرول کھو چکی ہے اور عہدیداروں کے بقول ان دو ملکوں میں اس کا نیٹ ورک ختم کر دیا گیا ہے۔

لیکن اسی اثنا میں یورپ سمیت مختلف ممالک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری داعش کی طرف سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG