رسائی کے لنکس

logo-print

لنڈی کوتل سے اغوا ہونے والے 17 پاکستانی بازیاب


پاک افغان سرحد۔ فائل فوٹو

پاکستان کے سرحدی علاقے لنڈی کوتل سے پانچ ماہ قبل سیر و تفریح کرتے ہوئے اغوا ہونے والے 17 افراد بحفاظت بازیاب ہو گئے ہیں۔

خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نیاز محمد کے مطابق مغویوں کی رہائی متعدد جرگوں کے باعث عمل میں آئی۔ تاہم بعض اطلاعات کے مطابق یہ سکیورٹی فورسز کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

لنڈی کوتل کے علاقے عادل خٹ سے ان افراد کو پانچ ستمبر 2017ء کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا اور بعد ازاں انھیں سرحد پار افغان صوبے ننگرہار کے علاقے لال پور منتقل کر دیا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ ان افراد کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا تھا لیکن یہ لوگ غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے اور قبائلی عمائدین کو ان کی بازیابی کے لیے مداخلت کرنا پڑی تھی۔

ان افراد کے اغوا کے بعد اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ اس واقعے میں کم از کم دس مسلح اغوا کار ملوث تھے۔

اس پاک افغان سرحدی علاقے میں سرگرم شدت پسند اور جرائم پیشہ افراد حکومت کے وفادار قبائلی راہنماوں اور سرکاری اہلکاروں کو اغوا کر کے سرحد پار لے جاتے رہے ہیں۔

پاکستان کی سکیورٹی فورسز قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرتی رہی ہیں جن میں ان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا بتایا گیا اور حکام کے مطابق بچ جانے والے عسکریت پسند مبینہ طور پر سرحد پار افغانستان فرار ہو گئے۔

لیکن ان کارروائیوں کے باوجود سرحدی پٹی میں تشدد کے اکا دکا واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG