رسائی کے لنکس

logo-print

انتخابات میں فوج کی تعیناتی کے منصوبے کی منظوری


فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی سربراہی میں پیر کو کور کمانڈروں کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں تمام ممکنہ خطرات اور اس سے نمٹنے کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔

پاکستان میں 11 مئی کے عام انتخابات سے قبل ملک میں دہشت گردوں کے حملوں میں تیزی پر سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت مختلف حلقے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

اسی تناظر میں انتخابات کے دوران حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی سربراہی میں پیر کو کور کمانڈروں کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں تمام ممکنہ خطرات اور اس سے نمٹنے کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے بیان مطابق انتخابات کے دوران فوجیوں کی تعیناتی کے منصوبے کو حتمی شکل دی گئی۔

اُدھر نگراں حکومت کے وزیر داخلہ ملک حبیب خان نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اُنھوں نے چاروں صوبائی وزرائے اعلٰی سے ملاقات کر کے اُنھیں سکیورٹی انتظامات کو مزید موثر بنانے کے لیے کہا ہے۔

’’جو بھی چیلنجز سامنے آ رہے ہیں ہم بھرپور اور موثر طریقے سے اُن سے نمٹیں گے۔‘‘

اُدھر بین الاقوامی تنظیم ہیومین رائٹس واچ کے پاکستان کے لیے ڈائریکٹر علی دیان حسن نے ایک بیان کہا ہے کہ عبوری حکومت انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو طالبان کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور اگر ضرورت پڑے تو فوج کو بھی استعمال کرے۔

علی دیان حسن نے کہا کہ شفاف انتخابات کے لیے حکومت، ملک کا آزاد الیکشن کمیشن اور سکیورٹی فورسز اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام سیاسی جماعتیں کھل کر اپنی انتخابی مہم چلا سکیں۔

اس سے قبل انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان ’ایچ آر سی پی‘ نے بھی اپنے حالیہ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے اُمیدواروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔
XS
SM
MD
LG