رسائی کے لنکس

logo-print

اے پی ایس حملہ کیس: فوجی حکام کے بیانات تاحال ریکارڈ نہ ہوسکے


آرمی پبلکن اسکول پشاور پر حملے کے بعد فوجی اہلکار اسکول کے اندر موجود ہیں (فائل فوٹو)

پاکستان کی فوج کے کئی ریٹائرڈ اور حاضر سروس اعلیٰ افسران تاحال آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے ہیں۔

حملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دیے جانے والے عدالتی کمیشن نے حملے کے وقت خیبر پختونخوا میں تعینات پولیس اور فوج کے اعلیٰ افسران کو کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کرانے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی کمیشن کے ترجمان کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کے چار افسران اور اس وقت کے ہوم سیکریٹری نے عدالتی کمیشن کو اپنے بیانات ریکارڈ کرادیے ہیں تاہم فوجی افسران کے بیانات تاحال ریکارڈ نہیں ہوسکے ہیں۔

ترجمان عمران اللہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وفاقی وزارتِ داخلہ نے کمیشن کو ان اعلیٰ فوجی افسران کے بیانات آئندہ ہفتے سے ریکارڈ کرائے جانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ایک رکنی عدالتی کمیشن کے سربراہ اور پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد ابراہیم خان نے 11 جنوری کو اعلیٰ سول اور فوجی حکام کو بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا تھا اور اس سلسلے میں وزارتِ داخلہ کو نوٹس ارسال کیا تھا۔

کمیشن نے جن فوجی افسران کو طلب کیا تھا ان میں حملے کے وقت کور کمانڈر پشاور کے فرائض انجام دینے والے لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ہدایت الرحمٰن بھی شامل ہیں۔

کمیشن کے ترجمان کے مطابق پولیس کے جن پانچ اعلیٰ افسران کے بیانات اب تک ریکارڈ ہوچکے ہیں ان میں سابق انسپکٹر جنرل ناصر خان درانی، موجودہ انسپکٹر جنرل صلاح الدین محسود، سابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ محمد عالم خان شنواری اور سینئر پولیس افسر سہیل خالد شامل ہیں۔ کمیشن سابق سیکریٹری داخلہ سید اختر علی شاہ کا بیان بھی ریکارڈ کرچکا ہے۔

کمیشن کے تر جمان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کے موجودہ انسپکٹر جنرل صلاح الدین محسود 16 دسمبر 2014ء کو ہونے والے اے پی ایس حملے کے فوراً بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل سی ٹی ڈی تعینات کیے گئے تھے اور انہوں نے اسی حیثیت میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا ہے۔

سولہ دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے میں 140 سے زائد طلبہ اور اساتذہ ہلاک ہوئے تھے۔

مرنے والوں میں 130 سے زائد طلبہ بھی شامل تھے جن کی عمریں 8 سے 18 برس کے درمیان تھیں۔

حملے میں مارے جانے والے طلبہ کے والدین واقعے کے بعد سے مسلسل حملے کی وجوہات اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور بارہا حکومت اور فوج کے اقدامات پر عدم اعتماد ظاہر کرچکے ہیں۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال متاثرہ طلبہ کے والدین کی درخواست پر معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دیا تھا جس نے اکتوبر 2018ء میں اپنے کام کا آغاز کیا تھا۔

کمیشن اب تک لگ بھگ 100 افراد کے بیانات ریکارڈ کرچکا ہے جن میں اعلیٰ حکام کے علاوہ عینی شاہدین اور حملے میں زخمی ہونے والے بچے اور اساتذہ بھی شامل ہیں۔

متاثرہ والدین کی تنظیم کے ایک عہدیدار اجون خان ایڈوکیٹ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے عدالتی کمیشن کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ کمیشن کی تحقیقات سے متاثرہ بچوں اور ان کے اہلِ خانہ کی داد رسی ہوگی اور انہیں انصاف ملے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG