رسائی کے لنکس

logo-print

روسی مال بردار ہوائی جہازوں کی امدادی سامان کے ساتھ شام آمد


شام کی حزب مخالف کے ایک بڑے گروپ نے شام میں روسی فوجی موجودگی پر ماسکو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

روس کے دو مال بردار ہوائی جہاز 80 ٹن امدادی سامان لے کر شام پہنچے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ یہ سامان ایک ہزار سے زائد مہاجرین کے لیے کیمپ قائم کرنے کے لیے استعمال ہو گا۔

شام کی حزب مخالف کے ایک بڑے گروپ نے روسی فوج کی موجودگی پر ماسکو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

روس کی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ایگوکونشینکوف نے ہفتے کو کہا کہ انسانی ہمدردی کی اس امداد میں کیمپ قائم کرنے کے لیے سامان بھی شامل ہے۔

شام کے صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے برسر پیکار گروپوں کے نیٹ ورک شامی قومی اتحاد نے روسی امداد کی مذمت کرتے ہوئے اسے مخالفانہ رویہ اور '' براہ راست فوجی مداخلت" سے تعبیر کیا ہے۔

پینٹاگان کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے فراہم کی جانے والی تازہ ترین امداد میں نیوی کے 200 اہلکاروں کے ساتھ ساتھ 1,500 اہلکاروں کے لیے آسانی سے تیار کیے جانے والے رہائشی یونٹوں کا سامان بھی شامل ہے۔

امریکی وزارت دفاع کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ اس سامان میں توپیں، مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کنٹرولر اور ایک درجن سے زائد بکتر بند گاڑیاں شامل ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے شام میں روس کی فوجی سرگرمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوتے متنبہ کیا ہے کہ یہ (عمل) امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے شام کی خانہ جنگی کا ایک سیاسی حل تلاش کرنے کی راہ میں حائل ہو سکتا ہے۔

صدر اوباما نے جمعہ کو کہا کہ واشنگٹن شام میں ماسکو کی فوجی سرگرمیوں پر اس کی مخالفت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ" یہ ایک طویل بحث ہو گی"۔

روس شام کا روایتی اتحادی ہے اور خانہ جنگی کے دوران وہ اسد حکومت کی امداد کرنے کے ساتھ ساتھ شامی حکومت کو اقوام متحدہ کی پابندیوں سے بھی بچاتا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG