رسائی کے لنکس

شادی کے لیے لڑکی کی عمر 18 سال ہونی چاہیے: سینیٹ


فائل: 11 سالہ پٹھانی بی بی کو 60 سالہ شخص کے نکاح میں دے دیا گیا تھا
فائل: 11 سالہ پٹھانی بی بی کو 60 سالہ شخص کے نکاح میں دے دیا گیا تھا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے لڑکی کی شادی کی عمر 16 سال سے بڑھا کر 18 سال کرنے کا بل منظور کر لیا، یہ بل سینیٹر سحر کامران نے پیش کیا تھا۔ جبکہ جادو ٹونے کی روک تھام کا بل بھی منظور کر لیا گیا۔

وزارت مذہبی امور کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ اسلامی نقطہ نظر سے بلوغت کی عمر کو پہچنے پر لڑکی کی شادی کر دی جائے جس پر اسلامی نظریاتی کونسل کے نمائندے نے کہا کہ ایک ریسرچ کے مطابق نو سال سے اوپر بلوغت تصور ہوتی ہے۔

اسلامک اسکالر ڈکٹر منیر نے بتایا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی کو نہ ہم پراپرٹی خریدنے دیتے ہیں نہ گاڑی چلانے دیتے، تو پھر انکی شادی کیوں کر دیں۔ کمیٹی میں موجود این جی او کے نمائندہ نے کہا کہ کم عمری کی شادی سے ماں کی صحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں، کم عمر بچیوں کی اولاد میں پیدائش کے وقت موت کی شرح بہت زیادہ ہے۔

کمیٹی نے ملک بھر میں جادو ٹونے کی روک تھام، کالے جادو پر پابندی اور جعلی پیروں و عاملوں کے خلاف سخت کارروائی کا بل بھی منظور کرلیا۔ بل میں کالا جادو کرنے والے شخص کو کم از کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ سات سال تک سزا اور پچاس ہزار روپے سے دو لاکھ روپے تک جرمانہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بل میں جادو ٹونے سے متعلق اشیا رکھنے پر تین ماہ قید اور 25 ہزار روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ قرآن کو جادو ٹونے کیلئے استعمال کرنے پر عمر قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

بل کے مطابق تدفین کے بعد قبر کھولنے پر پابندی ہوگی، جبکہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کیلئے سات سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ اور مردے کا گوشت کھانے پر 14 سال قید تجویز کی گئی ہے۔ اسی طرح، بل میں مسمار شدہ قبر میں کالا جادو کرنے پر پابندی، کسی قبر یا مردے کے اوپر نہانے پر پابندی، کفن یا تابوت کی چوری پر سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

بل میں جادو ٹونے سے متعلق اشتہارات، اشاعت اور کتابیں بیچنے یا خریدنے پر پابندی ہوگی، جس کی خلاف ورزی پر ایک سال قید اور جرمانہ کیا جائے گا۔ بل کے تحت جعلی عامل اور جادو ٹونا کرنے والے عامل کو تحفظ دینے والے کو بھی سزا اور جرمانہ کیا جا سکے گا۔ کمیٹی نے شراب پی کر غل غپاڑہ کرنے والوں کو سزا دینے کے بل کی بھی منظوری دے دی۔

وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی مسلسل غیر حاضری پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں لاپتہ قرار دے دیا۔

XS
SM
MD
LG