رسائی کے لنکس

logo-print

وزارت انسانی حقوق کا افتخار لوند کی تعیناتی کا نوٹیفیکشن منسوخ


فائل فوٹو

پاکستان کی وفاقی وزارت انسانی حقوق نے صوبہ سندھ میں تعینات وزارت کے فوکل پرسن کو فوری طور پر ہٹا دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے افتخار لوند کو حال ہی میں صوبے میں انسانی حقوق کی وزارت کا فوکل پرسن مقرر کیا گیا تھا لیکن ان کی تعیناتی کے خلاف انسانی حقوق کی تنظمیوں سمیت سیاسی جماعتوں نے سخت اعتراض کیا تھا۔

پیر کو اسلام آباد سے جاری کئے جانے والے ایک نوٹی فیکیشن کے مطابق افتخار لوند کو صوبہ سندھ میں وزارت انسانی حقوق کا فوکل پرسن مقرر کیا جانے والا پرانا نوٹی فیکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔ نوٹی فیکیشن کے مطابق یہ عمل منظر عام پر آنے والے "نئے ثبوت کی روشنی" میں کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 10 جولائی کو وفاقی وزارت نے میر افتخار احمد لوند کو فوکل پرسن تعینات کیا تھا جس پر مختلف سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے حکومت پر سخت تنقید کی جا رہی تھی۔ تاہم وزارت انسانی حقوق کے ترجمان نے پہلے یہ موقف اپنایا تھا کہ ان کی تعیناتی تمام تر ریکارڈ دیکھنے کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے معاملے کی دوبارہ چھان بین کا بھی کہا تھا۔

لیکن افتخار لوند کو تعیناتی کے 19 روز بعد ہی ان عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بھی افتخار لوند کو ہٹانے کی تصدیق کی ہے اور انہیں تعینات کرنے سے متعلق جاری پچھلے نوٹی فیکیشن پر "افسوس" کا اظہار کیا ہے۔

سندھ میں برسر اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر کھٹو مل جیون کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اکثر فیصلوں کے بعد اس میں ردو بدل کرتی ہے اور اس بار بھی یہی دیکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے بعض رہنماؤں، سوشل میڈیا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے احتجاج کے باعث تحریک انصاف کی وفاقی حکومت یہ فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوئی۔ ایسا شخص جو خود انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائے اسے اس اہم عہدے پر تعینات کرنا ہی سمجھ سے بالاتر فیصلہ تھا۔

میر افتخارلوند کون ہیں؟

افتخار لوند کا تعلق ضلع گھوٹکی کی تحصیل ڈہرکی سے ہے اور وہ گزشتہ کئی سال سے پاکستان تحریکِ انصاف سے وابستہ ہیں اور گذشتہ عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ پر وہاں سے الیکشن بھی لڑے لیکن ہار گئے تھے۔

ان پر اپنے ہی ایک سابق ملازم کو سریے کے ساتھ غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنانے، جنسی حملہ کرنے اور مارنے پیٹنے کے الزامات ہیں اور انہی الزامات کے تحت ان پر مقدمہ بھی قائم کیا گیا تھا۔ ان پر عائد اس الزام پر سول سوسائٹی اور مخالف سیاسی جماعتوں نے تحریک انصاف کی قیادت سے افتخار لوند کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم افتخار لوند کو اس کے برخلاف صوبے میں وزارت انسانی حقوق کا فوکل پرسن مقرر کر دیا گیا تھا۔ معاملے پر سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے بھی نوٹس لیا تھا اور پولیس سے اس بارے میں ریکارڈ طلب کیا گیا تھا۔

افتخار لوند اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ متاثرہ شخص نے عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں کہا ہے کہ اس واقعے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں متاثرہ شخص نے ایف آئی آر میں درج واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ عدالت نے فریقین کے درمیان صلح ہونے پر کیس میں نامزد افتخار لوند سمیت تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا۔ تاہم افتخار لوند کے مخالفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے متاثرہ شخص پر دباؤ، دھونس اور دھمکیوں سے بیان تبدیل کروایا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG