رسائی کے لنکس

logo-print

مذہبی، سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کے خلاف اقدامات کی ہدایت


فائل فوٹو

پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مبینہ عسکری ونگز کے خلاف صوبوں کو مؤثر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جماعت کے کسی ونگ پر پابندی کے لیے حکومت کو ٹھوس وجوہات دینا ہوں گی۔

حکومت نے مذہبی جماعتوں کے مسلح جتھوں کے خلاف صوبائی حکومتوں کو کارروائی کرنے اور مؤثر اقدامات کی ہدایت ایسے موقع پر دی ہے جب 13 دسمبر کو حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا 13 دسمبر کو لاہور کے مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ طے ہے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی جماعت نے خلاف ورزی کی تو قانون حرکت میں آئے گا جب کہ حزبِ اختلاف کا مؤقف ہے حکومت پی ڈی ایم سے بوکھلا گئی ہے۔

وفاقی وزارتِ داخلہ نے صوبائی حکومتوں کو جو مراسلہ ارسال کیا ہے کہ اس کے مطابق مذہبی جماعتوں نے اپنی اپنی ملیشیا بنائی ہوئی ہے۔ مختلف جماعتوں کے ملیشیا کے ارکان مسلح افواج جیسی وردی اور رینکس لگاتے ہیں۔ ملیشیا بنانا آئین کے آرٹیکل 256 اور نیشنل ایکشن پلان کے تیسرے نکتے کی خلاف ورزی ہے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ملیشیا کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو سیکیورٹی صورتِ حال مزید خراب ہو سکتی ہے جس سے دنیا میں پاکستان کا منفی تاثر ابھرے گا۔

مذکورہ مراسلے میں اگرچہ کسی جماعت کا نام تو نہیں لکھا گیا لیکن مبصرین کے مطابق اس کا نشانہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رضا کار فورس انصار الاسلام نظر آ رہی ہے۔

انصار الاسلام پر حکومت نے گزشتہ برس اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے بعد ہونے والے دھرنے کے دوران پابندی عائد کی تھی۔ البتہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس پابندی کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

حزبِ اختلاف کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ایک نان اشو کو اشو بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول نوٹی فکیشن کے الفاظ نئے نہیں اور اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ عسکری ونگ اور رضاکار میں فرق ہوتا ہے جس کا حکومت کو پتا ہی نہیں ہے۔

اُن کے بقول انصار الاسلام کی 100 سالہ تاریخ ہے اور یہ کبھی بھی کسی قسم کی منفی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوئی۔ یہ جماعت ہمیشہ سے جے یو آئی کے جلسوں اور تقاریب کو منظم رکھنے اور سیکیورٹی کے لیے کام کرتی ہے اور آج تک اس پر قانون کو ہاتھ میں لینے یا کسی قانون شکنی کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ نے جمہوری عمل کو کمزور کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ بنوائے۔

عسکری ونگز اسٹیبلشمنٹ ہی بنواتی ہے: ڈاکٹر توصیف احمد

مصنف اور تجزیہ کار ڈاکٹر توصیف احمد ملک میں مختلف سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کو اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب جب اسٹیبلشمنٹ کو ضرورت پڑتی ہے سیاسی جماعتوں کے ایسے ونگز بنا کر اپنے مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں۔

اُن کے بقول ماضی میں ایم کیو ایم اور اس کے عسکری ونگ کے ذریعے کراچی میں مقاصد حاصل کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کے عسکری ونگز کو افغان جہاد میں استعمال کیا گیا۔ جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں کو کشمیر کے لیے استعمال کیا گیا اور اب ایف اے ٹی ایف کے دباؤ پر انہیں 10، 10 سال کی سزائیں دی جا رہی ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ یہ تنظیمیں بنواتی ہے تو ان سے لڑتی کیوں ہے؟ بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے کبھی بھی ایسے گروہوں کی تشکیل نہیں کی۔ البتہ ان کو ختم کرنے میں نرمی کا مظاہرہ کیا جو درست اقدام نہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف استعمال ہوتی ہیں۔ تو یہ ادارہ اپنے خلاف ایسی فوج کیوں تیار کرے گا۔ دفاعی اداروں کی کمزوری سمجھیں کہ انہوں نے ان کے خلاف سخت کارروائی نہ کی۔

بریگیڈیئر محمود شاہ نے کہا کہ افغان جہاد یا کشمیر کے جہاد کے حوالے سے جب کچھ مذہبی تنظیمیں جمع ہوئیں۔ تو اس کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ اگر ان جماعتوں کو نہ روکا گیا تو یہ ملک لبنان بن جائے گا۔

ان کے بقول پاکستان کی فوج کو ایسے لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے انصار الاسلام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس پر فوری پابندی عائد ہونی چاہیے۔ کیوں کہ یہ باقاعدہ یونیفارم پہن کر اور رینکس لگا کر جلسوں میں لوگوں کو دکھاتے ہیں۔ لہذا الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ نوٹیفائی کرے کہ یہ سیاسی جماعت نہیں ہے۔

عسکری سوچ بھی خطرناک ہے: افتخار احمد

تجزیہ کار افتخار احمد کہتے ہیں کہ سیاسی جماعت کا عسکری ونگ بننا نظریاتی سوچ کے خلاف ہے۔

افتخار احمد نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کا عسکری ونگ سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ اگر ایسی کوئی جماعت ہو گی تو وہ سیاسی جماعت نہیں ہو گی۔

جے یو آئی کی انصار الاسلام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ صرف ایک سیاسی جماعت نہیں ہے۔

افتخار احمد نے کہا کہ ایم کیو ایم بھی صرف ایک سیاسی جماعت نہیں تھی۔ اس نے تشدد کی جو روایت شروع کی وہ کسی سیاسی جماعت کا وطیرہ نہیں ہو سکتا۔ سیاسی جماعت کی خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ اس میں ہر مذہب، ہر فرقے، ہر زبان اور ہر نسل کا شخص موجود ہوتا ہے۔

ان کے بقول کوئی سیاسی جماعت اپنے مخالفین کو بوریوں میں بند کرکے لاشیں نہیں پھینک سکتی۔ ایک جماعت دوسری سے نظریاتی اختلاف کرسکتی ہے۔ لیکن اب تمام سیاسی جماعتیں فلسفے کے بغیر چل رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG