رسائی کے لنکس

logo-print

مسیحی برادری کو مخصوص نشستوں پر نظرانداز کیے جانے کی شکایت، مظاہرے


پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے مسیحی برادری کے رہنمائوں اور کارکنوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے پارلیمنٹ میں غیر مسلم اقلیتی برادری کیلئے مخصوص نشستوں پر انہیں نظرانداز کرنے کے خلاف منگل کے روز احتجاجی مظاہرے کئے۔

مظاہرین کا تعلق صوبے کی سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے تھا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے اٹھا رکھے تھے اور وہ اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگوا رہے تھے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں غیر مسلم اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والوں کیلئے تین نشستیں مخصوص ہیں۔

مظاہرین نے الزام لگایا کہ کسی بھی سیاسی جماعت بالخصوص پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی طرف مخصوص نشستوں پر نامزد کئے جانے والے امیدواروں میں مسیحی برادری کا کوئی فرد شامل نہیں ہے۔

ماضی میں، بالخصوص 2008 اور 2013 کے انتخابات کے بعد، معرض وجود میں آنے والی صوبائی اسمبلیوں میں مسیحی برادری کے دو دو افراد مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹوں پر منتخب ہوئے تھے۔

تاہم، اس سال دیگر غیر مسلم اقلیتوں میں شامل ہندو، سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے نامزد امیدواروں کی تعداد قدرے زیادہ ہے۔

خیبر پختونخوا کی تاریخ میں پہلی بار دور افتادہ ضلع چترال کے کیلاش برادری سے بھی ایک امیدوار کو پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدواروں کی فہرست میں شامل ہے، جبکہ لگ بھگ 25 سال کے وقفے کے بعد احمدی برادری سے تعلق رکھنے ولے ایک سابق رکن صوبائی اسمبلی بھی مذہبی اقلیتوں کیلئے مخصوص نشستوں پر نامزد امیدواروں کی فہرست میں شامل ہے۔

ملک قسیم الدین خالد کو سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپائو کی قومی وطن پارٹی کے مذہبی اقلیتوں کیلئے مخصوص نشستوں پر نامزد امیدواروں کی فہرست میں جگہ ملی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG