رسائی کے لنکس

logo-print

میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی مذمت


پاکستان کے قومی احتساب بیورو نے جنگ اور جیو گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ نیب کا کہنا ہے کہ میر شکیل الرحمان نے 1986 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف سے ناجائز طور پر زمین حاصل کی تھی۔ جنگ جیو گروپ نے الزامات کو جھوٹا قرار دیا ہے۔

نیب نے جوہر ٹاؤن فیز ٹو کے بلاک ایچ میں 54 پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے کیس میں میر شکیل الرحمان کو پانچ مارچ کو طلب کیا تھا اور اس روز ان سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ جمعرات کو انھیں دوبارہ بلایا گیا اور سوال جواب کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔

جنگ گروپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میر شکیل الرحمان نے 34 سال پہلے وہ زمین حکومت سے الاٹ نہیں کرائی بلکہ ایک پرائیویٹ پارٹی سے خریدی تھی۔ انھوں نے اس کے تمام شواہد نیب کو پیش کر دیے تھے لیکن اس کے باوجود انھیں گرفتار کیا گیا۔

جنگ گروپ کے ترجمان نے سوال اٹھایا ہے کہ نیب پراپرٹی کیس میں کسی شخص کو کیسے گرفتار کر سکتا ہے؟ ترجمان نے کہا کہ میر شکیل الرحمان پر اس سے پہلے بھی سیاسی لوگوں سے اور بیرون ملک سے فنڈز لینے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ ان پر غداری، توہین مذہب اور ٹیکس چوری کے الزامات بھی لگائے گئے لیکن وہ سب جھوٹے ثابت ہوئے۔

ترجمان نے کہا کہ ماضی میں جنگ گروپ کے اخبارات کا بائیکاٹ کیا گیا، اشتہارات روکے گئے اور چینل بند کیے گئے۔ لیکن جنگ اور جیو گروپ سچ کا ساتھ دیتا رہے گا اور پیچھے نہیں ہٹے گا۔

جمعرات کی شب پاکستان کی ٹیلی نیوز چینلوں کے پروگراموں میں اس خبر پر تبصرے کیے گئے، سوشل میڈیا پر سیاست دانوں نے اس گرفتاری پر تنقید کی اور مختلف صحافتی تنظیموں نے بھی بیانات جاری کیے ہیں۔

نیویارک میں قائم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ پیرس میں قائم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ پاکستان کے صحافیوں کی ملک گیر تنظیم پی ایف یو جے کے مختلف دھڑوں، ایڈیٹرز کی تنظیم سی پی این سی اور انسانی حقوق کمشن آف پاکستان نے بھی میر شکیل الرحمان کی گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف، مریم نواز، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی اور ایم کیو ایم پاکستان نے میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی مذمت کی اور اسے حکومت کی انتقامی کارروائی قرار دیا۔

سینئر صحافیوں نے ٹوئٹر پر اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ جیو کے پروگرام کیپٹل ٹاک کے میزبان حامد میر نے لکھا کہ میر شکیل الرحمان کبھی سرکاری عہدے پر نہیں رہے، پھر نیب انھیں کیسے گرفتار کر سکتا ہے؟ امتیاز عالم نے لکھا کہ شکیل الرحمان کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری میڈیا کو آمرانہ قوتوں کا یرغمال بنانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ سلیم صافی نے لکھا کہ میر شکیل الرحمان کو مبارک کہ آج عمران خان اور جسٹس جاوید اقبال نے انھیں سرٹیفکیٹ دے دیا کہ ان پر تمام الزامات جھوٹے تھے۔ کامران خان نے لکھا کہ اس بارے میں کسی شبے کی گنجائش نہیں کہ انھیں کیوں گرفتار کیا گیا۔ یہ اقدام انتہائی مذمت کے قابل ہے۔

اے آر وائی پر پروگرام کرنے والے چودھری غلام حسین نے ٹوئٹ کیا کہ نیب نے پاکستان کے سب سے بڑے بلیک میلر کو گرفتار کر لیا۔

جمعرات کو سوشل میڈیا پر عمران خان کے وہ ویڈیو بیانات گردش کرتے رہے جن میں وہ وزیراعظم بننے سے پہلے میر شکیل الرحمان کو فرعون کہا کرتے تھے اور خبردار کرتے تھے کہ نواز شریف کے بعد وہ بھی نہیں بچیں گے۔

نیب حکام کے مطابق میر شکیل الرحمان کو جمعہ کو عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ طلب کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG