رسائی کے لنکس

logo-print

ممکنہ طور پر شام کا سفر کرنے والی لاپتا بہنوں کا خاندان سے رابطہ


بریڈ فورڈ پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ لاپتا بہنوں میں سے ایک نے بدھ کو اپنے گھر پر رابطہ کیا ہے اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ تنازع کے شکار ملک شام میں سرحد پار پہنچ گئی ہیں

برطانیہ میں بریڈ فورڈ کی رہائشی تین لاپتا بہنوں کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر وہ شام پہنچ چکی ہیں۔

یہ بہنیں اس سے پہلے بھی برطانیہ سے فرار ہونےکی کوشش کر چکی تھیں، لیکن ان کا منصوبہ ہوائی اڈے پر سیکیورٹی چیک کی وجہ سے متاثر ہوا تھا۔

بریڈ فورڈ پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ لاپتا بہنوں میں سے ایک نے بدھ کو اپنے گھر پر رابطہ کیا ہے۔ اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ تنازع کے شکار ملک شام میں سرحد پار پہنچ گئی ہیں، جس کے ایک حصے پر داعش کا قبضہ ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی نژاد برطانوی شہری 30 سالہ خدیجہ داؤد، 34 سالہ صغرا داؤد اور 33 سالہ زہرا داؤد سمیت ان کے نو بچے جن کی عمریں 3سال سے 15 سال کے درمیان ہیں، نے اس سال مارچ میں یہ سفر کرنے کی کوشش کی تھی، جنھیں ہوائی اڈے پر آخری لمحات میں بچوں سمیت سفر سے روکا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق لاپتا خواتین نے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے 28مئی کو مانچسٹر سے سعودی عرب کا سفر کیا تھا، انھیں گزشتہ جمعرات کو واپس برطانیہ آنا تھا لیکن انھوں نے 9جون کو ترکی کی پرواز لی۔

شام جانے والے افراد عام طور پر ترکی کو اپنے سفر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

لاپتا بہنوں کے شوہروں کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے یہ گروپ موثر طریقے سے غائب ہوگیا، ان کے فون بند تھے اور ان کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ اپ ڈیٹ نہیں ہوئی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ بہنیں شام میں اپنے بھائی سے ملنے کی کوشش کریں گی جس کا نام احمد بتایا جاتا ہے۔ اس نے دو سال پہلے شام کا سفر کیا تھا جہاں وہ پہلے سے انتہا پسندوں کے ساتھ لڑ رہا ہے۔

ایک پریس کانفرنس میں منگل کو لاپتا دو بہنوں کے شوہروں نے اپنے خاندان سے التجا کی تھی کہ وہ واپس گھر آجائیں۔

صغرا کے شوہر اختر اقبال نے رقت آمیز لہجے میں اپنی بیوی اور بچوں سے درخواست کی کہ میں آپ کو بہت یاد کر رہا ہوں اور میں آپ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ہوں۔

خدیجہ کے شوہر محمد شعیب نے اپنی اہلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ازدواجی تعلقات بہترین ہیں، ہمارا ایک خوبصورت خاندان ہے، مجھ سے رابطہ کرو اور مہربانی کر کے گھر آجاؤ۔

خاندانی وکیل بلال مقصود کا کہنا ہے تینوں بہنوں اور نو بچوں کی گمشدگی کی تحقیقات کرنے والی بریڈ فورڈ پولیس پہلے سے اس خاندان کو جانتی تھی اور خاندان کی نگرانی کر چکی ہے۔

بلال مقصود نے بتایا کہ پولیس کی طرف سے ان کے بھائی کے برطانیہ سے فرار ہونے کے بعد اس کے ٹھکانے کے حوالے سے تحقیقات کی گئی تھی۔

پولیس چیف کانسٹبل رس فوسٹر نے کہا کہ چھوٹی سی چھوٹی معلومات گمشدہ خاندان کو واپس گھر لانے میں برطانیہ اور بیرون ملک حکام کی مدد کر سکتی ہے۔

لاپتا ہونے والی بہنوں کا خاندانی پس منظر :

روزنامہ گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ خاندان محلے میں انتہائی قدامت پسند گھرانہ سمجھا جاتا ہے۔ تینوں بہنوں کا ایک بڑے خاندان سے تعلق ہے جس میں والدین محمد داؤد اور والدہ سارہ بیگم سمیت دو بیٹے اور سات بیٹیاں شامل ہیں۔

مقامی کونسلر الیاس کرمانی نے ذرائع کو بتایا کہ ،یہ بہنیں بریڈ فورڈ میں پیدا ہوئیں اور یہیں پلی بڑھی ہیں ،ان کے والدین کا تعلق پاکستان کےشمالی علاقے سے ہے ان کا خاندان پاکستان سے جنوبی یورک شائر میں آباد ہوگیا تھا۔

پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک متقی اور پرہیز گار خاندان ہے ،لاپتا بہنوں میں سے ایک زہرا داؤد شام میں اپنے گھر پر قرآنی تعلیمات کی کلاسیں دیا کرتی تھیں۔

XS
SM
MD
LG