رسائی کے لنکس

logo-print

لاپتہ افراد: وفاقی سیکرٹری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم


چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد کے معاملے کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور اس کے باوجود اب تک نہ تو انھیں ظاہر کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ یہ لوگ کس کی حراست میں ہیں۔

پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے چیف جسٹس نے صوبہ بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کے مقدمے کے عدالتی فیصلے پر پوری طرح عمل درآمد نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری داخلہ کو عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس میں اعلیٰ پولیس افسران سمیت درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے عدالت عظمیٰ نے صوبے کی صورتحال پر از خود نوٹس لیا تھا جس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جمعرات کو کوئٹہ میں شروع کی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد کے معاملے کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور اس کے باوجود اب تک نہ تو انھیں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ یہ لوگ کس کی حراست میں ہیں۔

سماعت کے دوران صوبائی چیف سیکرٹری، صوبائی سیکرٹری داخلہ، پولیس سربراہ کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ عہدیدار عدالت میں موجود تھے۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی سے استفسار کیا کہ صوبے کے مغربی اور جنوبی اضلاع کے بیشتر علاقوں میں حکومتی عملداری دکھائی نہیں دیتی۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ ان علاقوں میں قبائلی رہنماؤں سے بات چیت کی جا رہی ہے اور حکومتی عملداری کو بحال کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔

اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکومت قانون کی بالادستی اور اپنی عملداری قائم کرے۔

مقدمے کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی گئی۔
XS
SM
MD
LG