رسائی کے لنکس

logo-print

لاپتا افراد کا فوٹو گرافر


شاہد الاسلام

اس فلیٹ کی ایک دیوار پر بہت سے فوٹو لگے ہوئے ہیں۔ وہ تمام فوٹو ایک شخص نے کھینچے ہیں۔ وہ فلیٹ اسی شخص کا ہے۔ وہ تمام فوٹو لاپتا یا قتل کیے گئے افراد کے ہیں۔

انصاف کی راہ میں ایسی دیوار کسی بھی ملک میں ہو سکتی ہے، کیونکہ احتجاج کرنے والوں کا لاپتا یا قتل کیا جانا عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے۔ جس دیوار کا یہاں تذکرہ کیا جا رہا ہے، وہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے ایک فلیٹ میں ہے۔ فوٹو گرافر شاہد العالم کے فلیٹ میں۔ وہ محض فوٹو گرافر نہیں ہیں بلکہ انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ہیں۔ سماجی انصاف کے لیے ان کی جنگ میں کیمرا ان کا ہتھیار ہے۔

شاہد نوجوانی میں علم کیمیا کے طالب علم تھے۔ وہ 1970 کے عشرے میں کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے لندن گئے۔ علم کیمیا کے ذریعے بہت سی اشیا کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن شاہد کی زندگی اسے استعمال کیے بغیر بدل گئی۔

اُنہیں فوٹو کھینچنے کا شوق ہوا اور وہ اس کام میں لگ گئے۔ پھر سوشلسٹ ورکرز پارٹی سے منسلک ہوئے۔ انہوں نے سیکھا کہ تصویروں میں طاقت ہوتی ہے جو کسی سماجی اور سیاسی مہم کو آگے بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔

شاہد 1984 میں واپس ڈھاکہ آئے اور پیشہ ور فوٹوگرافر کے طور پر کام کرنے لگے۔ ابتدا میں فیشن اور ایڈورٹائزنگ کے شعبے میں کام کیا۔ لیکن پھر فوٹو جرنلسٹ بن گئے۔ سڑکوں پر احتجاج کے فوٹو کھینچنے لگے۔ سماجی مسائل اور عوامی موضوعات کی تصویر کشی کرنے لگے۔

دوسروں کی گرفتاری پر احتجاج کو کور کرتے کرتے وہ خود بھی احتجاج کا حصہ بن گئے۔ طلبہ کے ایک مظاہرے پر غیر ملکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومت پر کڑی تنقید کی۔ اس کے بعد ان کے فلیٹ پر چھاپہ پڑا۔ لاپتا افراد کے لیے آواز بلند کرنے والا خود لاپتا ہوگیا۔

لیکن، شاہد العالم عام آدمی نہیں تھے۔ ان کے بہت سے بااثر دوست تھے۔ وہ بین الاقوامی شہرت رکھتے تھے۔ ان کی اہلیہ انسانی حقوق کی رہنما تھیں۔ وہ بہت سے مقامی فوٹو گرافروں کے استاد تھے۔

ان کی گرفتاری پر احتجاجی مہم شروع ہوئی۔ 107 دن بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ لیکن ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو چکی تھی۔

شاہد بتاتے ہیں کہ اب وہ دفتر آتے جاتے ہوئے احتیاط کرتے ہیں۔ سائیکل پر نہیں نکلتے۔ فون ساتھ نہیں رکھتے کہ ان کی لوکیشن سے تعاقب نہ کیا جاسکے۔ وہ ہر ایک گھنٹے بعد گھر فون کر کے اپنی خیریت سے آگاہ کرتے ہیں۔

شاہد کے فوٹو دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھ میں اور مغرب کے فوٹو جرنلسٹس میں فرق ہے کہ وہ دوسروں کی جدوجہد سامنے لاتے ہیں۔ میں خود ایک ایکٹوسٹ ہوں اور اپنی تحریک کی تصویریں اتارتا ہوں۔ اسی لیے میری تصویریں دوسروں سے زیادہ بولتی ہیں۔

اُن کے بقول، "طبقاتی تفریق، مذہبی تعصب، ماحولیاتی مسائل، ان تصویروں میں سب کچھ ہے۔ ایک اور بات کہ عام مقامی فوٹوگرافر سے الگ طرح سے پیش آتے ہیں۔ اسے اپنا سمجھتے ہیں۔"

شاہد العالم نے حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا کیونکہ نیویارک میں ان کے فن پاروں کی نمائش جاری ہے۔ روبن میوزیم آف آرٹ میں یہ نمائش چار مئی تک جاری رہے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG