رسائی کے لنکس

logo-print

نواز شریف کی سزا پر سیاستدانوں کا ملا جلا رد عمل


Nawaz Sharif

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پیر کو اپنے ایک فیصلے میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنادی ہے جس پر سیاسی حلقوں کی طرف سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ حز ب مخالف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ( نواز) کے رہنماؤں نے اس فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ کو ئی بھی جمہوریت پسند شخص اسے قبول نہیں کرے گا کیونکہ سابق وزیر اعظم کو احتساب کے عمل پر سیاسی طورپر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تاہم پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اپنی جائیداد کے ذرائع کو عدالت میں ثابت نہیں کر سکے ہیں اور نواز شریف کے خلاف مقدمات سابق دور حکومت میں قائم کیے گئے تھے۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم خاقان عباسی نے اس فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پیر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ‘‘ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ وہ فیصلے ہیں جن کو نا تو پاکستان کے عوام قبول کریں گے اور نا ہی تاریخ۔’’

پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے رہنما اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے سابق گورنر مہتاب عباسی نے پیر کو احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ‘‘ ناصرف پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے کارکن بلکہ پاکستان میں ہر جمہوریت پسند شخص اس فیصلے پر دکھی ہے۔ ’’

انہوں نے کہا ‘‘ان کی جماعت اس فیصلے کے خلاف پارلیمان کے اندر اور باہر احتجاج کرے گی اور پارلیمان کے فورم کے ساتھ قانون کا راستہ بھی موجود ہے۔ ’’

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹر شیری رحمان نے پاکستان پیپلر پارٹی کے شریک چئیر مین آصف زرداری اور بعض دیگر سیاستدانوں کے خلاف جاری احتساب کے عمل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن ایسا نا ہو کہ لوگ سوال کریں کہ جو آئین توڑتے ہیں وہ عدالتوں اور تحقیقات سے کیوں متثنیٰ ہیں ۔"

انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کونسا احتساب ہے۔ ان کے بقول حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے صرف حزب اختلاف کو احتساب کے نام پر نشانہ بنا رہی ہے۔

دوسری طر ف پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے اس تاثر کو رد کیا کہ یہ حکومت سیاسی وجوہات کی بنا پر نواز شریف کو نشانہ بنا رہی ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ‘‘ العزیزا ہو، ہل میٹل ہو، فلیگ شپ ہو یا ایف زیڈ ای کیپٹل۔ جس کے خود نواز شریف چئرمین تھے اور ان کے بقول منی لانڈرنگ کیلئے جعلی کمپنیاں بنائی گئی تھیں۔

انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ ان کی حکومت سیاسی وجوہات کے بناپر نواز شریف کو نشانہ بنارہی ہے۔

’’ ہمیں کہا جارہا ہے کہ یہ ہم نے انتقامی کاررائی کی ہے۔ 2016 میں ہم اقتدار میں نہیں تھے۔ وہ تمام پیسے جو پاکستان کے اندر لائے گے ان کا کو ئی بھی حساب کتاب نواز شریف کے پاس نہیں تھا، نا ہی یہ حساب سپریم کورٹ کو دے سکے اور ناہی یہ حساب ( احتساب ) عدالت کو دے سکے۔ یوں آج (پیر کو) سات سال قید کی سزا اور دو کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا العزیزیہ (ریفرنس) میں سنائی گئی ہے۔‘‘

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے بارے میں احتساب عدالت سے پیر کو سنائے گئے فیصلے کی وجہ سے ملک میں سیاسی کشدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔

ساسی امور کے تجزیہ کار احمد بلال محبوب نے پیر کو وائس امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کے خلاف احتساب عدالت کے فیصلے کے سیاسی مضمرات کے باعث ملک میں غیر یقینی کی صورت حال جاری رہے گی اور ملک میں سیاسی کشدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG