رسائی کے لنکس

logo-print

ملی مسلم لیگ پر پابندی کا مقصد پاکستان پر دباؤ بڑھانا ہے: تجزیہ کار


ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے (فائل فوٹو)

امریکہ کے محکمۂ خارجہ اور خزانہ نے گزشتہ روز 'ملی مسلم لیگ' اور 'تحریکِ آزادی کشمیر' کو شدت پسند تنظیم لشکرِ طیبہ کا حصہ قرار دے کر ان کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

حافظ محمد سعید کی تنظیم 'جماعت الدعوۃ' کے سیاسی ونگ 'ملی مسلم لیگ' پر امریکہ کی طرف سے پابندی کے اعلان کو پاکستان میں تجزیہ کار اور قانون ساز واشنگٹن کی طرف سے اسلام آباد پر دباؤ بڑھانے کی کڑی قرار دے رہے ہیں۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ اور خزانہ نے گزشتہ روز 'ملی مسلم لیگ' اور 'تحریکِ آزادی کشمیر' کو شدت پسند تنظیم لشکرِ طیبہ کا حصہ قرار دے کر ان کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے علاوہ امریکہ نے 'ملی مسلم لیگ' کے صدر سیف اللہ خالد سمیت اس جماعت کے پانچ رہنماؤں کا نام بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

اسد اللہ خان وفاقی دارالحکومت میں قائم ایک تھنک ٹینک 'انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز' سے وابستہ ہیں۔ اُنھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ملی مسلم لیگ کے حوالے سے امریکہ کا اقدام غیر متوقع نہیں تھا۔

"صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کا پاکستان کی جانب رویہ زیادہ دوستانہ نہیں رہا۔۔۔۔ اس جماعت (ملی مسلم لیگ) کا ابھرنا میرے ذاتی خیال میں پاکستان کے اپنے مفاد میں بھی نہیں تھا۔"

اسد اللہ خان کہتے ہیں کہ ملی مسلم لیگ کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے۔

"وہ اشارۃً ہمیں بتانا چاہ رہے ہیں کہ اُن کی ہم سے توقعات ہیں اور اُن (امریکہ) کا ڈو مور کہنے کا مطلب دراصل کیا ہے۔"

پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عبدالقیوم کہتے ہیں کہ ان اقدامات کا مقصد پاکستان پر دباؤ بڑھانا ہے۔

"پاکستان کا نکتۂ نظر یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہم ہر وہ قدم اٹھانے کو تیار ہیں جو دنیا اور خطے میں امن کے فروغ کا سبب بنے۔ اس لیے کوئی ایسی جماعت جس کا تعلق کسی بھی طریقے سے شدت پسندی سے ہو وہ پاکستان کو نا قابلِ قبول ہے۔"

سینیٹر عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ حافظ سعید کے متعلق بھی امریکہ کی طرف سے پاکستانپر دباؤ آتا رہا ہے جسے سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حافظ سعید کو نظر بند بھی کیا گیا اور ان کے خلاف حکومت عدالت میں بھی گئی تاہم عدالتوں نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر حافظ سعید کی نظر بندی ختم کر دی۔

"ہر پاکستانی جو اس آزاد ملک میں رہتا ہے، آئین اور قانون کے مطابق اس کے حقوق ہیں۔ ہم کسی کو پکڑ تب سکتے ہیں جب وہ آئین اور قانون کو توڑے۔"

مہارخ خان 'انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز' میں ریسرچ فیلو ہیں۔ اُنھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ گزشتہ ماہ ہی امریکہ نے جوہری تجارت سے وابستہ سات پاکستانی کمپنیوں پر پابندی عائد کی تھی اور اُن کے بقول اب ملی مسلم لیگ کو فہرست میں شامل کرنے کا مقصد اسلام آباد پر دباؤ بڑھانا ہے۔

"یہ دباؤ اس لیے ہے کہ ہم امریکہ کی مزید سنیں، جو میرے خیال میں پاکستان نہیں کر رہا ہے۔ حالیہ اقدام کے اثرات کتنے سخت ہوں گے اس کا ہمیں آئندہ کچھ دنوں میں ہی پتہ چل سکے گا۔"

مہارخ خان کہتی ہیں کہ خطے خاص طور پر افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان اور امریکہ کا مقصد تو ایک ہے لیکن راستے جدا جدا ہیں۔

"وہ اپنے راستے سے جانا چاہتے ہیں اور ہم اپنے راستے سے۔۔۔۔ لیکن امریکہ ایک سپر پاور ہے اور اپنی بات منوانے کے لیے سب کچھ کرے گا۔ اور یہ جو حالیہ اقدام ہے یہ بھی دباؤ بڑھانے کا طریقہ ہے۔"

واضح رہے کہ ملی مسلم لیگ پاکستان کے الیکشن کمیشن کے پاس بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ نہیں ہے۔

گزشتہ سال ملی مسلم لیگ نے اپنی رجسٹریشن کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دی تھی لیکن وزارتِ داخلہ کی طرف سے کلیئرنس نہ ملنے پر کمیشن نے درخواست مسترد کر دی تھی۔

تاہم گزشہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان الیکشن کمیشن کی طرف سے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن نہ کرنے کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے کی ہدایت کی تھی۔

جماعت الدعوۃ اور لشکرِ طیبہ کا شمار ان تنظیموں میں ہوتا ہے جن پر اقوامِ متحدہ کے علاوہ امریکہ کی طرف سے بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

لشکر طیبہ اور حافظ سعید کو امریکہ پہلے ہی دہشت گرد قرار دے چکا ہے اور ان کی گرفتاری میں مدد دینے لیے ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی مقرر کر رکھا ہے۔

بھارت اور امریکہ انھیں 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے منصوبہ ساز قرار دیتے ہیں لیکن حافظ سعید اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدعوۃ کی غیر اندارج شدہ سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کے سیاست میں آنے پر اندرونِ ملک بھی مختلف حلقوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اور حزبِ مخالف کی جماعتوں نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ اس بارے میں اگر پالیسی میں کوئی تبدیلی ہے تو پارلیمنٹ کو اس پر اعتماد میں لیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG