رسائی کے لنکس

امریکہ میں کرونا وائرس کی ویکسین تیار، پہلی مرتبہ انسان پر آزمائش


امریکہ کے محکمہ صحت نے پیر کو بتایا ہے کہ سیاٹل میں پہلی مرتبہ کسی انسان پر کرونا وائرس کی ویکسین کی آزمائش کی گئی ہے جسے 'ایم آر این اے -1273' کا نام دیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے شہر سیاٹل میں کرونا وائرس کی ویکسین کی پہلی مرتبہ کسی انسان پر آزمائش کی گئی ہے۔ اس آزمائش کے بعد امید پیدا ہو گئی ہے کہ ویکسین کرونا وائرس کی روک تھام میں معاون ثابت ہو گی۔

امریکہ کے محکمہ صحت نے پیر کو بتایا ہے کہ سیاٹل میں پہلی مرتبہ کسی انسان پر کرونا وائرس کی ویکسین کی آزمائش کی گئی ہے جسے 'ایم آر این اے -1273' کا نام دیا گیا ہے۔

یہ ویکسین امریکی قومی ادارہ برائے صحت (این آئی ایچ) کے سائنسدانوں اور بائیوٹیکنالوجی کمپنی 'موڈرنا' کی مشترکہ کوششوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

امریکہ کے محکمہ صحت کے مطابق 18 سے 55 برس کے 45 تندرست افراد نے خود کو رضاکارانہ طور پر ویکسین کے تجربے کے لیے پیش کیا ہے جنہیں لگ بھگ چھ ہفتوں کے دوران ویکسین دی جائے گی جب کہ ایک رضاکار کو ویکسین دی جا چکی ہے۔

گزشتہ برس دسمبر میں چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد اب یہ وائرس دنیا کے 120 سے زائد ملکوں میں پھیل چکا ہے۔ وائرس سے اب تک ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں اور سات ہزار سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کرونا وائرس کے علاج کے لیے دنیا میں اب تک کوئی ویکسین موجود نہیں ہے۔ امریکہ کے قومی ادارہ برائے صحت کی جانب سے کئی ہفتوں سے ویکسین کی تیاری پر کام جاری تھا۔

این آئی ایچ کے محکمہ متعدی امراض کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ ویکسین کی تیاری پہلے مرحلے میں ہے جسے ریکارڈ مدت میں تیار کیا گیا ہے اور یہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے پہلا اور اہم قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کی صحت ترجیح ہے اور امید ہے کہ ویکسین کے نتائج بہتر آئیں گے۔

امریکہ کی دوا ساز کمپنی 'انوویو' نے بھی کرونا وائرس کے علاج کے لیے ڈی این اے ویکسین پر کام شروع کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اُن کی ویکسین آئندہ ماہ کلینیکل تجربے سے گزرے گی۔

امریکہ کی طرح دیگر ملک بھی کرونا وائرس کے علاج کے لیے ویکسین پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں اٹلی سرِ فہرست ہے۔

چین کے بعد اٹلی دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جو کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ اٹلی میں اب تک 2000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور پورا ملک لاک ڈاؤن ہے۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق کرونا وائرس کے 80 فی صد کیسز معتدل ہیں جب کہ 14 فی صد کیسز شدید نوعیت کے اور صرف پانچ فی صد کیسز خطرناک یا جان لیوا ہیں۔

کرونا وائرس کے شکار معتدل مریض ایک سے دو ہفتے میں صحت یاب ہو جاتے ہیں جب کہ شدید بیمار افراد ٹھیک ہونے میں چھ یا اس سے زائد ہفتے لے سکتے ہیں۔

حالیہ اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی ایک فی صد تعداد ہلاک ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG