رسائی کے لنکس

logo-print

موبائل میں بیلنس لوڈ پر عائد ٹیکس میں کمی پر صارفین خوش


آپریشنل اور سروسز ٹیکس کے خاتمے کے بعد اب صارفین کو 100 روپے کے کارڈ پر 88 روپے 89 پیسے دستیاب ہوں گے۔ (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ آف پاکستان کے نئے احکامات کے مطابق ٹیلی فون کمپنیز موبائل فون کارڈ لوڈ کرنے پر صارفین سے آپریشنل اور سروسز ٹیکس وصول نہیں کر سکیں گی۔ صارفین اس نئے عدالتی فیصلے سے کافی خوش ہیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے ترجمان خرم علی مہران نے وی او اے کو بتایا کہ کیس کا فیصلہ جون میں آگیا تھا لیکن اس کا اطلاق تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اس ماہ یعنی جولائی سے ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے بعد سیلولر کمپنیز صارفین سے انتظامی اور سروسز ٹیکس وصولی کی مجاز نہیں رہیں۔

یاد رہے کہ سروسز ٹیکس کو پہلے بھی عدالتی احکامات کے نتیجے میں ایک بار اٹھایا اور پھر بحال کیا جا چکا ہے۔

موبائل کمپنیز کے مطابق سپریم کورٹ کے نئے احکامات کے تحت انتظامی اور سروسز کی مد میں وصول کیا جانے والا 10 فی صد اور 1.95 فی صد متفرق ٹیکس اب صارفین سے وصول نہیں کیا جائے گا۔ تاہم ود ہولڈنگ کی مد میں عائد 12.5 فی صد ٹیکس پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

ایک معروف موبائل کمپنی کے نمائندے نے وی او اے کو بتایا ہے کہ پہلے کُل وصول کردہ ٹیکس 23.06 روپے کے لگ بھگ تھا اور ایک صارف جب 100 روپے کا بیلنس لوڈ کرتا تھا تو تمام کٹوتی کے بعد یہ رقم 76.96 روپے رہ جاتی تھی۔

آپریشنل اور سروسز ٹیکس واپس لینے کے بعد صارف کو 100 روپے لوڈ کرنے پر 88 روپے 89 پیسے دستیاب ہوں گے اور یوں 11.11 روپے کی کٹوتی ہوگی۔

سپریم کورٹ کے نئے فیصلے کے نتیجے میں ملنے والی ٹیکس چھوٹ سے صارفین کافی خوش ہیں جن کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں کم از کم یہ ایک اچھی خبر ہے۔

ایک نجی کمپنی میں بطور سیکورٹی گارڈ کام کرنے والے عبدالحمید نے وی او اے کو بتایا کہ ٹیکس میں کٹوتی کم ہو یا زیادہ خوش خبری سے کم نہیں، مجھے اپنے گاؤں​ کال کرنی ہوتی ہے، کچھ پیسے تو بچیں گے۔

اسلام آباد میں ٹیکسی چلانے والے سیف اللہ کا کہنا تھا کہ وہ مہینے میں کم از کم آٹھ سے نو کارڈ لوڈ کرتا ہے اور دوبارہ ٹیکس عائد ہو جانے سے اسے سوچ سمجھ کر فون استعمال کرنا پڑتا تھا، اب اللہ کرے یہ ٹیکس ایسے ہی رہے۔

یاد رہے کہ سال 2018 میں اُس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیتے ہوئے موبائل فون کے ری چارج پر انتظامی اور سروس ٹیکس کی وصولی رکوا دی تھی اور 100 روپے پر 38 روپے کی ٹیکس وصولی کو صارفین پر غیر ضروری بوجھ قرار دیا تھا۔

ٹیکسز کا یہ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا بلکہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کر دیا تھا، عدالت کو بتایا گیا تھا کہ ٹیکس ختم ہونے کی وجہ سے ریاست کو 90 ارب کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ​

اس کیس کی سماعت جنوری 2019 کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو اُس وقت تک چیف جسٹس ثاقب نثار ریٹائر ہو چکے تھے۔

اپریل 2019 میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے فون کارڈز اور اس پر وصول کیے جانے والے ٹیکسز سے متعلق ایک اہم فیصلہ دیا تھا جس کے بعد کارڈ لوڈ پر لاگو انتظامی اور سروسز ٹیکس بحال کر دیے تھے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا ٹیکسز سے متعلق معاملات پر احکامات جاری کرنا مناسب نہیں اور عدالتی دائرہ کار اس کی اجازت نہیں دیتا اور یوں جسٹس ثاقب نثار کے از خود نوٹس کے نتیجے میں ملی اس ٹیکس چھوٹ کو واپس لیتے ہوئے تمام ٹیکسز دوبارہ بحال ہو گئے لیکن حالیہ فیصلے کے بعد یہ ایک بار پھر معطل ہو چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG