رسائی کے لنکس

logo-print

کرنسی اسمگلنگ کیس، ماڈل ایان علی پر فرد جرم عائد


یاد رہے کہ اس کیس کے اہم گواہ کسٹمز افسر چوہدری اعجاز کو جون میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا اور بعد میں وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔

پاکستان کی ایک عدالت نے جمعرات کو سپر ماڈل ایان علی پر پانچ لاکھ ڈالر سے زائد نقد رقم بیرون ملک اسمگل کرنے کوشش کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی ہے۔ لیکن ملزمہ نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

راولپنڈی میں کسٹمز کی ایک عدالت نے فرد جرم عائد کرتے ہوئے 8 دسمبر کو استغاثہ کے گواہوں کو اپنے بیانات ریکارڈ کرانے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ اس کیس کے اہم گواہ کسٹمز افسر چوہدری اعجاز کو جون میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا اور بعد میں وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔

جج رانا آفتاب احمد نے ایان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے فرد جرم عائد کی۔ لطیف کھوسہ کا مؤقف تھا کہ ایان علی کو جان بوجھ کر اس کیس میں پھنسایا گیا ہے۔

رواں ماہ کسٹمز، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی ایک خصوصی عدالت نے ان کی اس مقدمے سے بریت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں بریت کی درخواست دی جو سماعت کے لیے منظور کر لی گئی۔ اس درخواست کی سماعت پیر کو متوقع ہے۔

اس سال مارچ میں اسلام آباد کے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کسٹم حکام نے ایان کے سامان سے 5 لاکھ 6 ہزار 800 امریکی ڈالر برآمد کیے تھے جس کے بعد انہیں منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا تھا۔

حراست کے دوران ان کے عدالتی ریمانڈ میں 16 مرتبہ توسیع کی گئی۔ بالآخر چار ماہ بعد جولائی میں عدالت نے ان کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے انھیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ میں اس معاملے پر خاصی گرما گرم بحث ہوتی رہی ہے اور خاص طور پر سپر ماڈل کے عدالت میں پیش ہونے کو نجی ٹی وی چینلنز بے تحاشا کوریج دیتے رہے۔

XS
SM
MD
LG