رسائی کے لنکس

پاکستان کا افغانستان پر غور کے لیے بھارت کی جانب سے بلائی گئی کانفرنس میں شرکت سے انکار


فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا ہے کہ امن عمل کو نقصان پہنچانے والے کبھی امن کے لیے کام نہیں کر سکتے، لہذٰا وہ رواں ماہ بھارت کے زیرِ اہتمام مجوزہ افغان کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔

خیال رہے کہ بھارت نے رواں ماہ کے دوسرے ہفتے میں چین، پاکستان، ایران، روس اور تاجکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کو افغانستان کی صورتِ حال پر مشاورت کے لیے دعوت دے رکھی ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں اپنے ازبک ہم منصب وکٹر محمودوف کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ مغربی دنیا کی طرح پاکستان کے پاس افغانستان کے ساتھ روابط ختم کرنے کا آپشن موجود نہیں ہے۔

'دنیا افغانستان کے ساتھ تعاون کرے'

معید یوسف کا کہنا تھا کہ افغانستان کے عوام کی خاطر اس وقت ساری دنیا کو مل کر افغانستان کی موجودہ حکومت کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے تاکہ ان کے بقول افغانستان میں کوئی انسانی بحران پیدا نہ ہو۔

معید یوسف نے کہا کہ افغانستان کے معاملے میں پاکستان اور ازبکستان کا مؤقف یکساں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کا مؤقف ہے کہ افغانستان کے عوام کی خاطر اس وقت ساری دنیا کو مل کر افغانستان کی موجود حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ افغانستان میں کوئی نیا انسانی بحران پیدا نہ ہو۔

خیال رہے کہ امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ البتہ پاکستان کا یہ اصرار رہا ہے کہ دنیا کو افغانستان سے مکمل قطع تعلق نہیں کرنا چاہیے۔

دنیا کے بیشتر ممالک کا مؤقف ہے کہ جب تک طالبان انسانی حقوق کا تحفظ یقینی نہیں بناتے اور جامع حکومت تشکیل نہیں دیتے اس وقت تک ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

معید یوسف کا مزید کہنا تھا کہ عالمی ادارے بشمول اقوامِ متحدہ افغانستان میں انسانی بحران پیدا ہونے کے خطرے کا اظہار کر ر ہے ہیں۔ ان کے بقول ابھی سردی کا موسم شروع ہو رہا ہے لیکن وہاں خوراک کافی نہیں ہے۔ جب کہ لوگوں کے پاس ضررویات زندگی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی وسائل نہیں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی طرف سے بھی اس تشویش کا اظہار کیا جا چکا ہے کہ اگر افغانستان کو فوری امدد فراہم نہ کی گئی تو موسمِ سرما کے دوران افغانستان کسی بڑے بحران سے دوچار ہو سکتا ہے۔

معید یوسف نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے افغانستان میں جاری جنگ کی وجہ سے پاکستان کو براہ راست نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے 80 ہزار پاکستانی جان سے گئے اور معیشت کو 150 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا۔

پاکستان نے حال ہی میں افغانستان میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے بغیر اسلام آباد میں طالبان حکومت کی طرف سے متعین کیے جانے والے سفارت کاروں کو کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ سفارت کاروں کی تعیناتی ایک انتظامی معاملہ ہے تاکہ افغان سفارت خانے کے امور کو مناسب طریقے سے چلایا جا سکے۔

پاکستان، ازبکستان مشترکہ سیکیورٹی کمیشن

دوسری جانب ازبک قومی سلامتی کے مشیر وکٹر محمودوف کے دورۂ پاکستان کے دوران پاکستان اور ازبکستان نے مشترکہ سیکیورٹی کمیشن کے قیام کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔

پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر نے اس موقع پر کہا کہ اس مشترکہ کمیشن کے تحت دونوں ممالک منشیات کی اسمگلنگ، انسدادِ دہشت گردی اور قدرتی آفات سے مل کر نمٹنے کے لیے کام کریں گے۔

XS
SM
MD
LG