رسائی کے لنکس

logo-print

محمد علی کی میت ان کے آبائی قصبے لوئیول پہنچ گئی


لوئیول میں محمد علی سنٹر میں ایک عارضی یادگار پر عظیم باکسر کی تصویر کے باس گلاب کا ایک پھول رکھا ہے۔

جمعے کو محمد علی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لوئیول شہر میں ایک جلوس نکالا جائے گا جس کے بعد کھیل کے ایک میدان میں ان کے آخری رسومات ادا کی جائیں گی جس میں 22 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

باکسنگ کے عظیم کھلاڑی محمد علی کی میت اتوار کی شام ریاست کینٹکی میں واقع ان کے آبائی قصبے لوئیوِل پہنچا دی گئی ہے۔

محمد علی 74 برس کی عمر میں پارکنسنس یعنی رعشہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث جمعے کو انتقال کر گئے تھے۔

ان کی میت کو ریاست اریزونا سے جہاں ان کا انتقال ہوا، ایک خصوصی طیارے کے ذریعے لوئیویل لے جایا گیا۔

جمعے کو محمد علی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لوئیول شہر میں ایک ریلی نکالی جائے گی جس کے بعد کھیل کے ایک میدان میں ان کے آخری رسومات ادا کی جائیں گی جس میں 22 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

سابق صدر بل کلنٹن بھی ان کے جنازے کے موقع پر ایک تقریر میں انہیں خراج تحسین پیش کریں گے۔

محمد علی کے ترجمان نے کہا کہ وہ ’’دنیا کے شہری‘‘ تھے اور وہ چاہتے ہیں کہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد جنازے میں شرکت کر سکیں۔

ان کی وفات کی خبر عام ہونے کے بعد سے دنیا بھر سے انہیں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

ہفتے کو ان کے لیے لوئیول میں ایک دعائیہ تقریب بھی منعقد کی گئی جہاں محمد علی پلے بڑھے اور باکسنگ سیکھی۔

XS
SM
MD
LG