رسائی کے لنکس

logo-print

مہمند ایجنسی: مسجد میں خودکش دھماکا، 25 افراد ہلاک


پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں نماز جمعہ کے دوران ایک مسجد میں خودکش بم دھماکے میں کم از کم 25 افراد کے ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔

دھماکے کے نتیجے میں بیشتر افراد مسجد میں ہی ہلاک ہوگئے جب کہ کئی زخمی قریبی اسپتالوں میں لے جانے کے روران موت کے منہ میں چلے گئے۔

دو درجن سے زائد زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک و زخمی ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

مقامی قبائلیوں کے مطابق زیادہ تر زخمیوں کو غلنئی اور ناواگئی کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

مہمند ایجنسی سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ دھماکا تحصیل انبار کے ایک دور دراز علاقے پائی خان میں عین نماز جمعہ کے دوران ہوا۔

جس علاقے میں یہ دھماکا ہوا، وہ افغان سرحد کے قریب واقعہ ہے اور دور دراز علاقہ ہونے کی وجہ سے زخمیوں کو تیزی سے اسپتالوں میں منتقل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اس سے قبل بھی دہشت گرد سکیورٹی فورسز کے علاوہ مساجد اور قبائلی راہنماؤں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

اگرچہ حکام کے مطابق مہمند ایجسی کے زیادہ تر حصے سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا گیا ہے لیکن اب بھی قبائلی علاقوں سمیت دیگر مقامات پر جب بھی دہشت گردوں کو موقع ملتا ہے وہ اپنی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الاحرار نے مہمند ایجنسی میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ایک بیان میں جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا ہے کہ مہمند ایجنسی کی تحصیل انبار میں امن لشکر پر ’’جماعت الاحرار کے ایک فدائی نے حملہ کیا ہے‘‘۔

احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ تحصیل انبار کے امن لشکر نے2009ء میں ’’اُن کے 13 ساتھیوں کو ہلاک کیا تھا اور سوات و باجوڑ کے کئی (جنگجوؤں) کو گرفتار کر کےحکومت کےحوالے کیا تھا‘‘۔

XS
SM
MD
LG