رسائی کے لنکس

logo-print

ڈسپلن پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا: محسن خان


’پہلی ترجیح بیک اپ تیار کرنا ہے تاکہ ٹیم میں موجود ہر کھلاڑی کو احساس ہو کہ اس کا متبادل اس کے سر پر کھڑا ہے۔ ٹاپ آرڈر کو اپنی ذمے داری سبنھالنا ہو گی، ٹونٹی 20 میں کشش بہت ہے، پر یہ کرکٹ کے لیے خطرناک ہے۔ اس طرز کی کرکٹ کے لیے نیا کمبی نیشن بنانا چاہوں گا۔ ڈسپلن پر کوئی سمجھوتا نہیں۔ بورڈ سے تیس ‘‘کلین چٹ’’ کھلاڑی مانگوں گا۔ سیلیکشن کے لیے کسی کا سینئر ہونا یا کسی بڑے شہر سے ہونا ضروری نہیں، کارکردگی ہو گی۔ کپتان کے انتخاب کا مینڈیٹ چیرمین کرکٹ بورڈ کا، ٹیم سیلیکشن میں کپتان اور کوچ کی بات کو اہمیت دی جائے گی مگر پلیئر پاور نہیں چلے گی۔

ان خیالات کا اظہار پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نئے چیف سیلیکٹر محسن حسن خان نے وائس آف امریکہ سے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ یہ عہدہ سنبھالنے کا بعد محسن حسن خان کا کسی بھی چینل کے لیے یہ پہلا تفصیلی ون آن ون انٹرویو ہے۔ نیچے دیے گئے پلیئر پر کلک کر کے یہ انٹرویو سنا جا سکتا ہے۔



محسن خان کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ چھ سے آٹھ مہینوں میں ہر کھلاڑی کا بیک اپ تیار کریں گے تاکہ پلےانگ الیون میں شامل لڑکوں پر دباؤ رہے کہ پرفارم نہ کیا تو ٹیم میں جگہ نہیں رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹونٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے انہی 30 کھلاڑیوں میں سے حتمی ٹیم کا انتخاب کیا جائے گا جن کا اعلان پہلے ہو چکا ہے البتہ ملکی سطح پر کھیلے جانے والے آربی ایس ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے والوں پر بھی گہری نظر ہے انہیں مستقبل میں ضرور موقع دیا جائے گا، کیوں کہ میں ویسے بھی ٹی 20 کے لیے نئے کمبی نیشن کے حق میں ہوں۔

انھوں نے کہا سوائے تین چار کھلاڑیوں کے اس طرح کی کرکٹ کے لیے نئے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جائے گا کیونکہ ٹونٹی 20 پاکستان کی ٹیسٹ اور ون ڈے پرفارمنس پر برے اثرات مرتب کر رہی ہے۔

نئے چیف سیلیکٹر کا کہنا تھا کہ کپتان کا انتخاب کرکٹ بورڈ کے چیرمین کریں گے جب کہ ٹیم سیلیکشن میں کپتان، کوچ اور سیلیکشن کمیٹی کی رائے کو اہمیت دی جائے گی۔ اور ایسے وقت میں جب سیلیکشن کمیٹی اور کپتان کے درمیان دو میں سے کسی ایک کھلاڑی کے انتخاب پر اختلاف ہو تو کپتان کی بات سنی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب پلیر پاور قطعی طور پر نہیں ہے، البتہ کپتان کو اہمیت دینےکا مقصد اس بات کو سمجھنا ہے کہ کپتان ہی کہ آخر میدان میں لڑنا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کرکٹ بورڈ کے چیرمین کے ساتھ آٹھ مارچ کو ملاقات میں ان کے کنٹریکٹ کی تفصیلات طے پائیں گی۔

ٕمحسن خان نے کہا کہ سینیارٹی سیلیکشن کا معیار نہیں بلکہ پرفارمنس ہو گی۔ انہوں نے کہا آئندہ ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ میں رانا نوید اور کامران اکمل کی شرکت کے بارے میں کہا کہ میں نے بورڑ کے چیرمین اعجاز بٹ سے کہ دیا ہے کہ مجھے 30 کھلاڑیوں کی ڈسپلن کے حوالے سے ‘‘کلین چٹ’’ چاہیئے انہی میں سے فائنل ٹیم سیلکٹ ہو گی۔ ڈسپلن پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا۔

یاد رہے کہ مذکورہ دونوں کھلاڑیوں کےبارے میں بورڈ کے ذرائع کے حوالے سے خبر شائع ہوئی تھی کہ دونوں میچ فکسنگ میں ملوث تھے۔ تاہم کامران اکمل اور رانا نوید نے اس بات کی تردید کی تھی۔

محسن حسن خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا وہ نئے کھلاڑیوں کو ایک آدھ موقع دے کر ضائع کرنے کی پالیسی اختیار نہیں کریں گے اور ٹیم میں آنے والے کو کم از کم تین مواقع دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اوپننگ کا مسئلہ حل کرنا بھی ان کی اولین ترجیح ہے اور اس کے لیے تمام کھلاڑیوں کو اپنی ذمے داری لینا ہو گی۔ ففٹی کو سنچری میں بدلنا ہو گا۔ لمبی پارٹنرشپس کے ساتھ ساتھ بڑا ذاتی سکور کرنا ہو گا تبھی ٹیم جیت کےٹریک پر آئے گی۔

XS
SM
MD
LG