رسائی کے لنکس

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ یہ کارروائی شام کے لڑاکا طیاروں نے کی یا اس کے اتحادی روس نے طبی مرکز کو نشانہ بنایا۔

شام کی طویل خانہ جنگی پر نظر رکھنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ صوبہ ادلب میں ایک زیر زمین طبی مرکز کو فضائی حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے۔

یہ مرکز اس مقام سے کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر قائم تھا جہاں رواں ماہ کے اوائل میں مہلک کیمیائی حملہ ہوا تھا۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا تھا کہ لڑاکا طیاروں نے غار میں قائم باغیوں کے زیر کنٹرول عبدین طبی مرکز کو نشانہ بنایا جس میں ایک شخص ہلاک اور ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ حزب مخالف کی ایک ویب سائٹ "الیپو ٹوڈے" کے مطابق طبی عملے کے تین افراد کے مارے جانے کا خدشہ ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ یہ کارروائی شام کے لڑاکا طیاروں نے کی یا اس کے اتحادی روس نے طبی مرکز کو نشانہ بنایا۔

طبی امدادی تنظیم "فزیشنز فار ہیومن رائٹس" کا کہنا تھا کہ 2011ء سے گزشتہ سال کے اواخر تک روس یا شام کے طیاروں نے 400 سے زائد کارروائیوں میں 300 سے زائد مختلف طبی مراکز کو نشانہ بنایا جن میں طبی امداد سے وابستہ لگ بھگ 800 افراد مارے جا چکے ہیں۔

عبدین طبی مرکز کیمیائی حملے کا نشانہ بننے والے قصبے خان شیخون کے شمال میں واقع ہے۔ اس حملے میں ایک سو عام شہری مارے گئے تھے۔

ادھر ہفتہ کو ہی آبزرویٹری کے مطابق بظاہر امریکی زیر قیادت کے اتحاد کے جنگی طیاروں نے داعش کے دارالخلافے رقہ سے چالیس کلومیٹر دور دریائے فرات پر اہداف کو نشانہ بنایا۔

الطبقہ شہر کے قریب ہونے والی اس کارروائی میں کم ازکم پانچ افراد ہلاک ہوگئے جب کہ متعدد افراد زخمی ہوئے لیکن ان کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG