رسائی کے لنکس

والدہ کے ہاتھ کی بنی منگوچھیوں کا ذائقہ بھلائے نہیں بھولتا


فائل فوٹو

آج کل خوش ذائقہ کھانوں کے نسخے اور چرچے دونوں ہی سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر عام ہیں۔ کھانوں سے متعلق معلومات کی بھرمار نے لوگوں کے مزاج اور روایات دونوں کو بدل دیا ہے۔ جہاں دیکھیے ملکی اور غیر ملکی کھانوں کی کھچڑی پک رہی ہے۔

اب کھانے کی میز پر کڑھی، نوڈلز اور پیزا ایک ساتھ ہونا معمول کی بات ہے۔ پلاؤ کے ساتھ چکن کارن سوپ، دال مکھنی اور نہاری بھی ایک ہی محفل میں پیش کی جاتی ہیں۔

ایک زمانہ تھا جب ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے "کھانوں کا ذائقہ ختم ہو گیا ہے۔ اصلی چیزیں ناپید ہیں۔ جعلی چیزوں سے پکے کھانوں میں کیا خاک مزا آئے گا۔"

اس وقت ہمیں بزرگوں کی اس بات پر یقین نہیں آتا تھا اور ہم یہی سوچتے تھے کہ "اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، انہیں کچھ نہ کہو۔"

زمانہ بیتا۔ وہ بزرگ رخصت ہوئے۔ ہم نے ان کی جگہ سنبھال لی اور آج کے بزرگ ٹھیرے۔ ہر چند کہ ہمیں اب بھی اس کا یقین نہیں آتا مگر پھر جب بچوں پر نظر پڑتی ہے تو یقین کرنا ہی پڑتا ہے کہ اس کے علاوہ چارہ ہی کوئی نہیں۔ بالخصوص ایسے مواقع پر جب ہم غیر ارادی طور پر اکیسویں صدی کے بدذائقہ کھانوں کو دیکھتے ہیں۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پم پھر آہ بھر کے منگوچھیوں کو یاد کرتے ہیں، انڈہل کا ذکر کرتے ہیں، گلگلوں کے دن یاد آتے ہیں۔ ان کھانوں کے نام سن کر ہمارے بچّے حیرت سے ہمارا منہ تکتے ہیں کہ یہ کس قسم کے کھانوں کا ذکر ہو رہا ہے۔

اب منگوچھیوں کو ہی لے لیجیے۔۔۔ انتہائی لذیذ اور کم خرچ کھانا۔ اس کے بنانے اور پکانے کی ترکیب تو مجھے معلوم نہیں کیوں کہ ہمیں تو منگوچھیاں پکی پکائی دیکھنے اور کھانے کو ملتی تھیں۔ بس اتنا علم ہے کہ ہماری والدہ رات کو چھلکوں والی مونگ کی دال بھگوتی تھیں۔

رات میں کھلے صحن میں ایک قلعی شدہ پتیلی کو ململ کے کپڑے سے ڈھانپ کر رکھا جاتا تھا۔ پھر صبح یا شاید دوپہر کو والدہ دال کے چھلکے الگ کرتیں اور پھر دھلی ہوئی دال کو سل پر پیسا جاتا۔

کچھ مصالحے بھی ملائے جاتے تھے جن کے نام مجھے معلوم نہیں۔ مصالحے مکس کرنے کے بعد والدہ اسے ایک چھوٹے سے برتن میں پھینٹتیں۔ اور ہاں، کتری ہوئی پیاز اور ہری مرچیں بھی ملائی جاتی تھیں۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

اس کام میں شام ہو جاتی تھی اور مغرب کی نماز کے بعد والدہ تیل کی کڑھائی چڑھاتیں اور پکوڑوں کی شکل میں انہیں تلا جاتا۔ ساتھ ہی سادہ سالن تیار ہوتا جس میں یہ تلی ہوئی منگوچھیاں ڈالی جاتی تھیں۔

ہم یہ تلی ہوئی خستہ منگوچھیاں روکھی کھانے کے لیے بے چین ہوئے رہتے تھے۔ کبھی کبھی والدہ رحم کھا کر ایک آدھ منگوچھی کسی تیلی میں چھوا کر ہمیں دے بھی دیتی تھیں۔ مگر یہ مہربانی ہمیشہ نہیں ہوتی تھی۔

پھر ہمیں رات کے کھانے کا انتظار رہتا جب سالن جذب کرنے کے بعد یہ منگوچھیاں ایک عجب مزا دیتی تھیں۔ توے سے اترتی ہوئی گرم گرم چپاتیاں اور منگوچھیوں کے سالن کا ذائقہ بھلائے نہیں بھولتا۔ وہ آج بھی اسی طرح تازہ ہے جیسے یہ کل کی ہی بات ہو۔ مگر یہ تو نصف صدی پہلے کا قصّہ ہے کوئی دو، چار برس کی بات نہیں۔

ممکن ہے کہ منگوچھیوں کا بھی کوئی جدید نسخہ نکل آیا ہو اور میڈیا پر اسے پکانے کے طریقے بھی بتائے جا چکے ہوں۔ بہرحال مجھے یقین ہے کہ یہ وہ منگوچھیاں نہیں ہوں گی جو میں نے لڑکپن میں کھائی تھیں۔ کیوں کہ اب نہ سِل ہے اور نہ کسی کے پاس دال کے چھلکے الگ کرنے کا وقت۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG