رسائی کے لنکس

logo-print

جو بائیڈن اور ڈنیرو کو بھی دھماکہ خیز مواد بھیجا گیا


ایمرجنسی اہل کار نیو یارک میں گورنر کومو کے دفتر کے سامنے

جمعرات کی صبح حکام نے ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے معروف رہنماؤں کو بھیجے گئے مزید مشتبہ بم پکڑے ہیں۔ حکام کے مطابق سابق نائب صدر جو بائیڈن اور معرف ایکٹر رابرٹ ڈنیرو کو بھی بلکل ویسے ہی دیسی ساختہ بم ڈاک پارسل میں بیجے گئے جیسے کے دیگر رہنماوں کو بھیجے گئے تھے۔

اس تمام صورتِ حال پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ میں سیاسی ماحول میں برہمی کے اضافے کا ذمے دار زیادہ تر ذرائع ابلاغ کو قرار دیا ہے۔

جمعرات کی صبح ایک ٹوئٹر پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہمارے معاشرے میں غصے کے اظہار کا ماحول بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ زیادہ تر قومی دھارے کے ذرائع ابلاغ کی جانب سے جان بوجھ کر غلط حقائق اور غیر مستند رپورٹنگ ہے، جسے میں ’فیک نیوز‘ کہتا ہوں‘‘۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’’یہ معاملہ اب اتنا خراب اور قابل نفرت ہوچکا ہے کہ اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی دھارے والے ذرائع ابلاغ ’فوری طور پر‘ اپنا انداز درست کریں‘‘۔

ٹرمپ کا یہ ٹوئیٹ ایسے میں سامنے آیا ہے جب جمعرات کو پکڑے جانے والے پائپ بموں کے بعد اب تک بھیجے گئے ایسے پیکیجز کی تعداد کم از کم 10 ہو چکی ہے، جو پیر کے روز سے اب تک امریکہ کے مختلف مقامات پر موصول ہو چکے ہیں۔

پولیس نے جمعرات کے روز نیو یارک میں بتایا کہ ایسا ہی ایک پیکیٹ ڈی نیرو کے ایک ’پروڈکشن‘ سے وابستہ ادارے کو ملا ہے، جو اُسی قسم کا ہے جیسا کہ ڈیموکریٹ پارٹی کے دیگر معروف رہنماؤں کو بھیجا گیا تھا، جن میں سابق صدر براک اوباما اور سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن شامل ہیں۔

نیویارک سٹی کے محکمہٴ پولیس کے بم تلف کرنے والے ’اسکواڈ‘ نے مشتبہ بم مخصوص ٹرک میں ڈال کر محفوظ مقام کی جانب روانہ کیے، جو جمعرات کے روز ٹریبیکا کے مضافات میں موصول ہوئے تھے۔

’ بیورو آف انویسٹی گیشن‘ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سابق نائب صدر جو بائیڈن کے لیے دو پیکیجز ڈلاویئر میں پکڑے گئے۔

دیگر پیکیجز سابق امریکی اٹارنی جنرل، ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے دو ارکان اور سنٹرل انٹیلی جنس کے سابق سربراہ، جان برینن کے نام تھے۔

برینن نے ٹرمپ کی جانب سے جمعرات کے روز جاری کردہ ٹوئیٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے سے باز آنا چاہیئے۔ آئینہ دیکھیں۔ آپ کا اشتعال انگیز بیانیہ، بدزبانی، جھوٹ اور جسمانی تشدد پر اکسانے کی نوعیت کے الفاظ نامناسب ہیں‘‘۔

جب سی این این بیورو کے پتے پر برینن کے نام ایک لفافہ موصول ہوا،جسے پولیس نے دھماکہ خیز ’ڈوائس‘ بتایا، تو بدھ کے روز کئی گھنٹوں تک ٹائم وارنر سینٹر کو خالی کرایا گیا۔

’سی این این‘ کے صدر، جیف زکر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے خلاف اکثر کیے جانے والے حملوں کے نتائج کا ’’درست ادراک نہیں کیا جارہا‘‘۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری، سارا ہکابی سینڈرز نے ٹوئٹر پر بیان میں زکر پر رائے عامہ تقسیم کرنے کا الزام لگایا۔

کانگریس میں ڈیموکریٹ پارٹی کے دو چوٹی کے قائدین، ایوان میں اقلیت کی قائد، نینسی پلوسی اور سینیٹ میں اقلیتی قائد چَک شومر نے بدھ کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے ٹرمپ پر سیاسی بے چینی کے شعلے بڑھکانے کا الزام لگایا۔

حکام نے دھماکہ خیز مواد بھیجنے والے کی شناخت سے متعلق تفصیل کا اعلان نہیں کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG