رسائی کے لنکس

logo-print

دو برسوں میں انسانی اسمگلنگ کے سات ہزار سے زائد مقدمات کا اندراج


پاکستانی پارلیمان کی عمارت (فائل)

پاکستان میں گزشتہ دو سالوں کے دوران ملک بھر میں انسانی اسمگلنگ کے واقعات کے سات ہزار سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں اور ان میں مبینہ طور ملوث سات ہزار تین سو سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے پارلیمان کی ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کی قانون ساز شازیہ ثوبیہ کے سوال کے تحریری جواب میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2016ء میں صوبہ پنجاب میں انسانی ٹریفکنگ کے 3349، خیبر پختونخواہ میں 140، سندھ میں 181 اور بلوچستان میں 349 مقدمات درج کیے گئے جبکہ رواں سال پورے ملک میں ایسے 3334 مقدمات درج کیے گئے، جن میں سے زیادہ تر مقدمات صوبہ پنجاب میں درج کیے گئے جن کی تعداد 2784 تھی جبکہ باقی دیگر صوبوں میں درج کی گئے گئے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان مقدمات کے اندراج کے بعد پورے ملک میں گزشتہ دو سالوں کے دوران7,381 افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان میں بھی زیادہ تر گرفتاریاں صوبہ پنجاب میں عمل میں لائی گئیں۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور وکیل انیس جیلانی نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے کہ کہ مقدمات درج کرنا اچھی پیش رفت ہے لیکن حکومت کو یہ بات بھی یقنی بنانی چاہیے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کڑی سزا سے نہ بچ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ " میرا خیال ہے کہ یہ جو جو تعداد بتا رہے ہیں وہ ان لوگوں کی ہے جو انسانی ٹریفکنگ کا نشانہ بنے ہیں۔ جب بھی اس طرح کوئی شخص اس طریقے سے ملک سے باہر جاتا ہے تو واپس آنے کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے۔ ان لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرنا چاہیے جو انسانی ٹریفکنگ میں ملوث ہیں۔ "

انہو ں نے کہا کہ اگر حکومت عملی اقدامات کرے تو ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہے۔

" یہ چیلنج اتنا بڑا نہیں ہے جس طرح جنوبی ایشیا کے بعض دیگر ملکوں جیسے بنگلادیش یا برما میں ہے۔ (پاکستان میں ) اس کو کنڑول کیا جاسکتا ہے اگر حکومت سیاسی عزم کا مظاہرے کرے اور کچھ عملی اقدمات کرے تو میرے خیال میں اس کا سدباب کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تربت کے علاقے میں گزشتہ ماہ دو مختلف واقعات میں 19 افراد کی ہلاکت کے معاملے پر انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے نہ صرف آواز بلند کی بلکہ یہ معاملہ میڈیا اور پارلیمان میں بھی زیر بحث رہا۔

احسن اقبال نے اسی واقعہ کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کی وڈیو سماجی میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہونے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس میں مبینہ طور ملوث 17 افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے سات کو گرفتار کر لیا جبکہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تربت میں ہلاک ہونے والوں کا تعلق صوبہ پنجاب کے گوجرانوالہ ڈیژن کے مختلف اضلاع سے تھا جو بعض مقامی اوربیرونی ایجنٹوں کی مدد سے ایران کے راستے یورپ جانے کی متمنی تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG