رسائی کے لنکس

نائیجیریا: بوکو حرام کی 90 سے زائد طالبات کو اغوا کرنے کی اطلاعات


فائل
فائل

یہ بوکو حرام کے طرف سے بڑی تعداد میں (طالبات کو ) اغوا کرنے کا دوسرا واقعہ ہے جس نے اپریل 2014ء میں چبوک کے گاؤں سے 276 لڑکیوں کو اغوا کیا تھا۔

نائیجیریا کے شمالی مشرقی ریاست یوب میں اطلاعات کے مطابق دو روز قبل شدت پسند گروپ بوکو حرام کے ایک اسکول پر حملے کے بعد 90 طالبات لاپتا ہو گئی ہیں۔

وہ لوگ جو اس معاملے سے براہ راست طور پر آگاہ ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ منگل کو اسکول میں حاضری کے وقت 91 طالبات اسکول سے غیر حاضر پائی گئیں۔

یہ بوکو حرام کے طرف سے بڑی تعداد میں (طالبات کو ) اغوا کرنے کا دوسرا واقعہ ہے جس نے اپریل 2014ء میں چبوک کے گاؤں سے 276 لڑکیوں کو اغوا کیا تھا۔

پہلے واقعہ کی دنیا بھر میں شدید مذمت کی گئی اور اس کے ردعمل میں 'ہماری لڑکیوں کو واپس لاؤ ' کی تحریک شروع ہوئی، چار سال کے بعد بھی چیبوک کی 100سے زائد لڑکیاں اب بھی لاپتا ہیں۔

چیبوک کی لڑکیوں کے اغوا کے واقعہ کو ایک بار پھر دہرائے جانے کے خوف کی وجہ سے درجنوں والدین اپنے بچیوں سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے بدھ کو دپاچی قصبے کے گورنمنٹ گرلز اسکینڈری اسکول میں جمع ہوئے۔

لاپتا ہونے والی طالبات میں سے ایک کے چچا نے کہا کہ "ہماری لڑکیاں دو روز سے لاپتا ہیں اور ہمیں ان کا اتاپتا معلوم نہیں ہے۔ "

دوسری طرف گومسا گاؤں کے ایک عینی شاہد جس سے باغیوں نے راستہ کے بارے میں پوچھا تھا کا کہنا ہے کہ "میں نے تین لڑکیوں کو ایک گاڑی میں روتے اور مدد کے لیے ہاتھ ہلاتے ہوئے دیکھا ۔"

نائیجیریا کی پولیس کا کہنا ہے کہ علاقائی وزارت تعلیم اغوا کے واقعہ سے انکار کرتی ہے لیکن دوسری طرف والدین اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لڑکیاں لاپتا ہو گئیں ہیں۔

ریاست کی وزارت تعلیم بھی لڑکیوں کو اغوا کے واقعہ سے انکار کرتی ہیں تاہم اس نے اسکول کو ایک ہفتے کے لیے بند کر دیا ہے تاکہ طالبات اپنے خاندانوں سے آ ملیں۔

عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ شدت پسند ٹرکوں میں پیر کی شام کو دپاچی پہنچے اور ان میں سے بعض بھاری ہتھیاروں سے مسلح بھی تھے اور وہ وقفہ وقفہ سے فائرنگ کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے تھوڑی دیر کے بعد (لڑکیوں کو) تلاش اوربازیاب کروانے کی کارروائی شروع کر دی۔

شدت پسند گروپ بوکو حرام نے 2009ء سے شدت پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے اور اب تک 20 ہزار افراد کو ہلاک کر چکا ہے جب ک شورش کے باعث 20 لاکھ سے زائد افراد کو اپنے گھر بار چھوڑنا پڑے ہیں۔

XS
SM
MD
LG