رسائی کے لنکس

خلیجی ممالک میں 4،566 پاکستانی قید ہیں: وزارت خارجہ


ابوظہبی عدالت
ابوظہبی عدالت

تاہم وزارت خارجہ کی طرف سے نا تو یہ بتایا گیا کہ یہ لوگ کب سے قید ہیں اور ناہی ان پر عائد الزامات یا جرائم کی نوعیت کی تفصیل بتائی گئی ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ 4,566 پاکستانی مختلف خلیجی ملکوں میں قید ہیں۔ ان میں سے زیادہ تعداد سعودی عرب کی جیلوں میں ہے جن کی تعداد دو ہزار سے زائد ہے۔

یہ اعدادوشمار پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ایک تحریری سوال کے جواب میں پیش کئے گئے۔

تاہم وزارت خارجہ کی طرف سے نا تو یہ بتایا گیا کہ یہ لوگ کب سے قید ہیں اور ناہی ان پر عائد الزامات یا جرائم کی نوعیت کی تفصیل بتائی گئی ہے۔

ان میں سے زیاد ہ تر پاکستانی صرف دوملکوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں قید ہیں۔

سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی تعداد سب سے زیادہ یعنی 2393، متحدہ عرب امارات میں 1200، عمان میں 601، کویت میں 236، بحرین میں 92 جبکہ قطر میں 44 بتائی گئی ہے۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں یہ پاکستانی قید ہیں وہاں ان تک سفارتی رسائی اور انہیں قانونی معاونت کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ ان پاکستانیوں کی ملک واپسی کے لیے پاکستانی سفارت کار ان ملکوں کے متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں۔

گزشتہ ماہ پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بتایا تھا کہ سعودی عرب میں قید پاکستانی شہریوں میں سے868 منشیات سے متعلق جرائم میں قید کاٹ رہے ہیں جب کہ دیگر افراد قتل، چوری، دھوکہ دہی، لڑائی جھگڑے اور ایسے ہی دیگر غیر قانونی واقعات میں ملوث ہونے پر قید ہیں۔

پاکستان کے ایک معروف سماجی کارکن اور انصار برنی ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ انصار برنی کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں قید پاکستانیوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے جو سرکاری اعدادوشمار میں بتائی گئی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ان تمام پاکستانیوں اور خاص طور پر وہ جو منشیات کی اسمگلنگ جیسے سنیگن الزامات میں ملوث ہیں، کے معاملات کا جائزہ لینے کے حکومت ایک کمیٹی تشکیل دے۔

" کمیٹی (خلیجی ممالک) جائے ان کو (قید پاکستانیوں تک ) رسائی دی جائے لیکن پہلے وضاحت کر دی جائے کہ ہمیں جرائم پیشہ افراد سے کوئی ہمدردی نہیں ہے لیکن ہمیں تحقیق کرنے دی جائے کہ پاکستان میں کون لوگ تھے جنہوں نے ان کا استعمال کیا اور کن لوگوں نے انہیں یہاں بھیجا کس نے ان کو منشیات دی تھیں اور ان ملکوں کو مطمین کرنے کے لیے ان لوگوں کے خلاف پاکستان میں کارروائی کی جائے اور ان کو اطمینان دلایا جائے کہ آپ بے گناہ افراد کو چھوڑ دیں ہم جرائم پیشہ افراد کو پکڑیں گے"۔

تاہم انصار برنی کا کہنا تھا کہ وہ افراد جو نامکمل سفری دستاویزات یا دیگر چھوٹے جرائم کی بنا پر قید ہیں حکومت کو ان کی جلد رہائی اور وطن واپسی کی کوشش کرنی چاہیے۔

ہر سال لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک جاتے ہیں اور ان میں ایک کثیر تعداد خلیجی ملکوں کا رخ کرتی ہے اور حکام کے مطابق گزشتہ تین سالوں کے دوران بائیس لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار کے لیے عرب ملکوں میں گئے۔

ایک بڑی تعداد میں پاکستانی انسانی اسمگلروں کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے بھی بیرون ملک جاتے ہیں۔ تاہم ایسے افراد ناصرف معاشی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ دوسرے ملکوں کے قوانین کے متعلق مناسب آگاہی نا ہونے کی وجہ سے بھی انہیں قید کی سزا اور بعد ازاں ملک بدری کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

XS
SM
MD
LG