رسائی کے لنکس

امریکہ کے 54 فی صد شہری افغانستان سے فوجی انخلا کے حامی ہیں، سروے رپورٹ


پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق 42 فی صد بالغوں کی یہ رائے ہے کہ امریکہ کا افغانستان سے انخلا کا فیصلہ درست نہیں ہے۔

آدھے سے زیادہ بالغ امریکیوں کی یہ رائے ہے کہ بیس برسوں پر محیط جنگ کے بعد امریکہ کا افغانستان سے انخلا کا فیصلہ درست ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے حال ہی میں امریکہ کے افغانستان سے انخلا سے متعلق ایک سروے کیا گیا ہے جس میں امریکی شہریوں سے بائیڈن انتظامیہ کے اس فیصلے سے متعلق رائے لی گئی۔

سروے کے مطابق 54 فی صد بالغ امریکی افغانستان سے انخلا کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں اور اسے 'درست' قرار دیتے ہیں۔

پیو ریسرچ سینٹر کے سروے میں کہا گیا ہے کہ 42 فی صد بالغ امریکی شہریوں کی یہ رائے ہے کہ امریکہ کا افغانستان سے انخلا کا فیصلہ درست نہیں ہے۔

یہ سروے امریکہ کے افغانستان سے مکمل انخلا سے قبل 23 سے 29 اگست کے دوران کیا گیا تھا جس میں 69 فی صد رائے دہندگان نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کافی حد تک ناکام رہا ہے۔

سروے میں 26 فی صد افراد کا یہ کہنا تھا بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان کی صورتِ حال کو سنبھالنے میں 'بہترین' یا 'اچھی' کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

دوسری جانب 29 فی صد افراد کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ نے 'مناسب' جب کہ 42 فی صد نے کہا کہ انہوں نے 'خراب' کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

یاد رہے کہ امریکہ نے 30 اگست کو افغانستان سے فوجی انخلا مکمل کیا تھا جس کے بعد امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ اپنے اختتام کو پہنچی تھی۔

اس جنگ کا آغاز 2001 میں ہوا تھا جو دو دہائیوں تک جاری رہی جس میں 2400 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے جن میں 13 فوجی کابل ایئرپورٹ سے انخلا کے دوران شدت پسند تنظیم داعش خراسان کی جانب سے کیے گئے خود کش حملے میں ہلاک ہوئے۔

منگل کو وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ افغانستان میں جنگ امریکہ کے مفاد میں نہیں تھی، جسے بہت عرصہ قبل ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ فوجی انخلا کا فیصلہ انہی کا فیصلہ ہے اور درست سمت کی جانب ایک قدم ہے۔

صدر کا کہنا تھا کہ یہ لڑائی اس وقت ختم ہو جانی چاہیے تھی جب مئی 2011 میں اسامہ بن لادن کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا اور القاعدہ کا قلع قمع کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG