رسائی کے لنکس

logo-print

سیاسی بحران: مصری صدر نے دورہ یورپ مختصر کردیا


سیاسی حالات کے پیشِ نظر صدر مرسی دورہ فرانس منسوخ کرکے بدھ کو جرمنی سے ہی وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔

مصر کے صدر محمد مرسی ملک میں جاری سیاسی بحران کے پیشِ نظر اپنا دورہ یورپ مختصر کرکے وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔

صدر مرسی دورے کے پہلے مرحلے میں جرمنی میں موجود ہیں جہاں انہوں نے اپنا قیام مختصر کردیا ہے۔ انہیں اس دورے کے دوسرے مرحلے میں فرانس جانا تھا لیکن مصری حکام کے مطابق سیاسی حالات کے پیشِ نظر صدر یہ دورہ منسوخ کرکے بدھ کو جرمنی سے ہی وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔

صدر مرسی کی جانب سے دورہ یورپ مختصر کیے جانے کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز کے سکون کے بعد بدھ کو دارالحکومت قاہرہ میں مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان دوبارہ پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔

دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے پولیس پر پتھرائوکیا جس کے جواب میں پولیس نے ان پر آنسو گیس کے شیل برسائے۔

حکام کے مطابق قاہرہ میں بدھ کو ہونے والی جھڑپوں میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن طبی امداد دینے والے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ ان افراد کو کس نے گولیاں ماری ہیں۔

احتجاج کا حالیہ سلسلہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے طویل آمرانہ اقتدار کے خلاف چلنے والی کامیاب احتجاجی تحریک کی دوسری سال گرہ کے موقع پر شروع ہوا تھا جو گزشتہ ہفتے منائی گئی تھی۔ ہنگاموں میں اب تک 50 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ابتدائی احتجاج میں اس وقت مزید شدت آگئی تھی جب دارالحکومت قاہرہ کی ایک عدالت نے ان 21 افراد کو سزائے موت سنائی تھی جو گزشتہ برس فٹ بال کے ایک میچ میں ہونے والی ہلاکت خیز ہنگامہ آرائی میں ملوث تھے۔

سزا پانے والے افراد میں سے بیشتر نہرِ سوئز کے کنارے واقع شہر پورٹ سعید کے رہائشی ہیں جس کے باعث عدالتی فیصلے کے خلاف سب سے شدید ردِ عمل بھی اسی شہر میں دیکھنے میں آیا ہے۔

ہنگاموں اور احتجاج پر قابو پانے کے لیے مصری صدر نے فسادات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تین بڑے شہروں پورٹ سعید، اسماعیلیہ اور سوئز میں پیر سے رات کا کرفیو اور ہنگامی حالت نافذ کردی تھی جو تاحال موثر ہے۔

مصر میں حزبِ اختلاف کے ایک مرکزی رہنما محمد البرادعی نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں جاری بحران کے حل کے لیے قومی مذاکرات کے آغاز کا مطالبہ کیا ہے۔

البرادعی نے اس سے قبل اتوار کو بھی صدر مرسی کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت 'نیشنل سالوویشن فرنٹ' اور اس کی ہم خیال دیگر سیکولر جماعتوں نے موجودہ حالات میں بات چیت سے انکار کردیا تھا۔
XS
SM
MD
LG