رسائی کے لنکس

logo-print

ماسکو: مقتول رہنما نمیتسوو کی آخری رسومات کی تیاریاں


نمیتسوو کی دوست نے کہا کہ انھوں نے حزب مخالف کے رہنما پر حملہ کرنے والوں کو نہیں دیکھا اور نہ ہی انھیں حملہ کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی کا نمبر یا ساخت یاد ہے۔

روس کے حزب مخالف کے ایک اہم رہنما بورس نیمتسوو کا جسد خاکی ماسکو کے ایک انسانی حقوق مرکز میں آخری رسومات کے لیے رکھا گیا ہے جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان کے آخری دیدار کے لیے موجود ہے۔

صدر ولادیمر پوٹن کے اہم ترین ناقد تصور کیے جانے والے نمیتسوو کو گزشتہ جمعہ کو دیر گئے کریملن کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

ان کے قتل سے روس میں حزب مخالف کی نسبتاً محدود تحریک کو شدید متاثر کیا ہے۔ اکثر مخالفین کو شبہ ہے کہ یہ قتل صدر پوٹن کی مخالفت کے باعث کریملن کے حکم پر کیا گیا جب کہ عہدیداروں کا خیال ہے کہ اس اقدام کے پیچھے پوٹن کی ساکھ کو خراب کرنے سمیت کئی اور عوامل بھی کار فرما ہو سکتے ہیں۔

نمیتسوو کا تابوت مرکزی ماسکو میں جس جگہ رکھا گیا ہے اس کا نام سخاروف سنٹر ہے جو سوویت دور کے ایک اہم حزب مخالف رہنما اور امن کے نوبیل انعام یافتہ آندرے سخاروف کے نام سے منسوب ہے۔

ادھر نمیتسوو کی دوست نے کہا کہ انھوں نے حزب مخالف کے رہنما پر حملہ کرنے والوں کو نہیں دیکھا۔

23 سالہ یوکرینی ماڈل گرل انا ڈریٹسکایا، اس وقت نمیتسوو کے ہمراہ پیدل چلتے ہوئے ایک پل عبور کر رہی تھیں جب یہ ہلاکت خیز واقعہ پیش آیا۔

پیر کو پہلی مرتبہ روس کے ایک ٹی وی چینل "ڈوزہڈ" سے انٹرویو میں ڈریٹسکایا نے کہا کہ انھوں نے نمیتسوو کے ہمراہ رات کا کھانا کھایا اور پھر وہ باشوئی ماسکوورٹسکی پل عبور کر کے ان کے اپارٹمنٹ کی طرف جارہے تھے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ پیش آگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور پیچھے سے آیا اور ایک ہلکے رنگ کی گاڑی حملے کے بعد وہاں سے گزری۔ لیکن نہ تو انھوں نے حملہ آور کو دیکھا اور نہ ہی انھیں گاڑی کا نمبر یا ساخت یاد ہے۔

روسی عہدیداروں نے نمیتسوو کے قاتلوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے لیے پچاس ہزار ڈالر انعام کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

یوکرین کی وزارت خارجہ نے پیر کو دیر گئے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ ڈریٹسکایا روس سے نکل چکی ہیں اور وہ کیئف میں واپس اپنے اہل خانہ کے پاس آرہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG