رسائی کے لنکس

شبیر جیلانی۔

چیمپئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنمنٹ کا آغاز یکم جون سے انگلستان میں ہو رہا ہے۔ اس ٹورنمنٹ میں پاکستانی ٹیم کی قیادت وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کر رہے ہیں۔سرفراز جارحانہ انداز کیلئے شہرت رکھتے ہیں لیکن اُن کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اُنہیں ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔

پاکستانی ٹیم شروع ہی سے قیادت کے بحران کا شکار رہی ہے۔ 1952 میں ٹیسٹ کرکٹ کا درجہ حاصل کرنے کے بعد سے اب تک کھیلے گئے 407 ٹیسٹ میچوں میں کل 27 ٹیسٹ کرکٹر پاکستانی ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں تاہم ان میں سے محض تین کپتان کوئی واضح تاثر چھوڑنے میں کامیاب ہو پائے ہیں۔ ان میں پاکستان کی اولین ٹیسٹ ٹیم کے کپتان عبدالحفیظ کاردار ، کرکٹ سے فراغت کے بعد سیاسی میدان میں قدم جمانے والے آل راؤنڈر عمران خان اور حال ہی میں سبکدوش ہونے والے کپتان مصبح الحق شامل ہیں۔ مؤخر الذکر کپتان مصبح الحق کی قیادت میں سب سے زیادہ یعنی 56 ٹیسٹ کھیلے گئے۔

اًن تینوں کپتانوں کے انداز ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھے۔ تاہم ان میں ایک قدر مشترک تھی اور وہ تھی تعلیمی معیار اور فہم و فراست جس نے ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں کو اُن کی قیادت دل سے قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کے انداز میں تبدیلیاں ہوتی رہیں اور اس کھیل کے قوائد و ضوابط بھی تبدیل ہوتے گئے۔

عبدالحفیظ کاردار 1952 میں پاکستانی کی پہلی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بنے
عبدالحفیظ کاردار 1952 میں پاکستانی کی پہلی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بنے

جب کاردار نے کپتانی کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو اُس وقت میڈیا محض ریڈیو یا اخبارات تک محدود تھا۔ لہذا اُنہیں آجکل کے میڈیا کی طرح تند و تیز سوالوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ تاہم شہرہ آفاق درسگاہ آکسفورڈ سے فارغ التحصیل ہونے کے باعث اُن کے اور باقی کھلاڑیوں کے درمیان خاصہ ذہنی تفاوت ہونے کی وجہ سے کھلاڑی اُن کی قیادت قبول کرتے تھے۔ کاردار کیلئے پاکستان کی اولین ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کی کپتانی ایک بہت بڑے چیلنج سے کم نہ تھی۔ اگرچہ اُن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اُن کی قیادت میں اس اولین پاکستانی ٹیم نے دنیا کے قریب قریب تمام ہی ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی ٹیموں کے خلاف فتح حاصل کی۔ 1954 میں اوول کے میدان میں انگلستان کے خلاف یادگار جیت اُنہی کی قیادت میں حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ 1957 میں آسٹریلیا کے خلاف کراچی میں پاکستان کی پہلی جیت نے بھی پاکستانی کرکٹ کی تاریخ بدل ڈالی۔ تاہم جب 1954-55 میں بھارتی ٹیم کے پہلے پاکستانی دورے کے تمام کے تمام پانچ ٹیسٹ میچ ہارجیت کے بغیر ختم ہو گئے تو کاردار کو دفاعی انداز اپنانے پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں ممالک میں سیاسی کشیدگی کے باعث کپتانوں اور کھلاڑیوں کو سیریز ہارنے کاخوف تھا۔ اسلئے کوئی بھی ٹیم اپنے دفاعی حصار سے باہر نہ نکل سکی۔ کاردار کی کپتانی میں کل 23 ٹیسٹ کھیلے گئے جن میں سے پاکستان نے 6 جیتے اور 6 ہی میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ باقی 11 ٹیسٹ ہارجیت کے بغیر ختم ہوئے۔

پاکستان نے کرکٹ کا واحد ورلڈ کپ عمران خان کی قیادت میں جیتا
پاکستان نے کرکٹ کا واحد ورلڈ کپ عمران خان کی قیادت میں جیتا

عظیم آل راؤنڈر اور کپتان عمران خان نے کاردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کی ریٹائرمنٹ کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم کو بھیڑیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ۔

دوسرے کامیاب ترین کپتان عمران خان بھی آکسفورڈ یونیورسٹی سے ہی فارغ التحصیل ہیں۔اُنہوں نے 1982 میں کپتانی کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اُن کی قیادت میں کل 48 ٹیسٹ کھیلے گئے جن میں سے پاکستان نے 14 ٹیست جیتے، 8 ہارے اور باقی 26 ہارجیت کے بغیر ختم ہوئے۔ عمران خان نے بین ا لاقوامی کرکٹ کا آغاز ایک اوسط درجے کے فاسٹ باؤلر سے کیا لیکن چند ہی برسوں میں اُنہوں نے ایک عظیم آل راؤنڈر کی حیثیت سے اپنا لوہا منوا لیا۔ اُنہوں نے بھی اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بنا پر اپنے پیش رو کی طرح بہت سے نئے کرکٹرز کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ذاتی کارکردگی کے علاوہ کپتان کی حیثیت سے اُن کی اہم ترین کامیابی 1992 میں ورلڈ کپ جیتنا تھا۔ عمران کو جو بات دوسرے کپتانوں سے جدا کرتی ہے وہ اُن کا جیت کیلئے غیر متزلزل یقین، اعتقاد اور بے پناہ ذہانت تھی۔ لاہور کے گدافی اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سنچری اسکور کرنے بعد راقم الحروف سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا تھا کہ جو ٹیم ہار سے بچنے کی خاطر دفاعی حکمت عملی سے کھیلتی ہے، ہار اُس کا مقدر بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے ہمیشہ جارحانہ انداز اپنایا اور اس میں خاصی حد تک کامیاب بھی رہے۔ عمران خان اپنے پیش رو حفیظ کاردار کی طرح پاکستانی کرکٹ کو شہرت اور معیار کی بلندیوں پر لے گئے ۔ اپنے کیرئر کی انتہا پر اُن کی شہرت کرکٹ سے بلند ہو کر ایک بین الاقوامی سپر اسٹار کی حیثیت اختیار کر گئی۔

مصبح الحق نے کرکٹ ٹیم کی کپتانی ایسے وقت میں سنبھالی جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم تین اہم ترین کھلاڑیوں پر اسپاٹ فکسنگ کا الزام ثابت ہو نے کے بعد شدید مایوسی اور خلفشار کا شکار تھی۔ اُنہیں 2010 میں 36 سال کی عمر میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹونٹی ٹونٹی ٹیموں سے باہر کر دیا گیا تھا تاکہ نسبتاً کم عمر کھلاڑیوں کو موقع دیا جا سکے۔ اُنہوں نے سنجیدگی سے ریٹائرمنٹ کے بارے میں غور کرنا شروع کر دیا۔ ایسے حالات میں جب اُس وقت کے کرکٹ بورڈ چیف اعجاز بٹ نے اُنہیں کپتانی کی پیشکش کی تو دوسرے تمام حلقوں سمیت وہ خود شدید حیرت میں مبتلا ہو گئے اور اُنہوں نے اس پیشکش کا جواب دینے دینے کیلئے چند روز کی مہلت مانگی۔ مصباح نے یہ بات ایک ہفتے تک سب سے پوشیدہ رکھی حتیٰ کہ خود اپنے خاندان کو بھی اس کا علم نہ ہونے دیا۔ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ محسن حسن خان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو وہ جذباتی انداز میں یہ کہہ گئے کہ اس کا سلیکشن کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں۔

بہرحال، پاکستانی ٹیم اسپاٹ فلسنگ سکینڈل کے باعث جس کیفیت سے گزر رہی تھی، اُس میں ٹیم کی قیادت سنبھالنا اور اسے واپس کامیابیوں کی جانب لیکر جانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ لیکن اُنہوں نے اس ذمہ داری کو بہت ذہانت اور خوش اصلوبی سے نبھایا۔ وہ بھی ٹیم کے باقی ارکان کے طرف سے مکمل وفاداری اور تعاون حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ کپتانی کے دوران اُن کی ذاتی کارکردگی میں بھی اس قدر نکھار پیدا ہوا کہ وہ مڈل آرڈر میں ایک انتہائی قابل اعتماد بیٹسمین کی حیثیت سے اُبھرے۔اُن کی قائدانہ صلاحیتوں میں بھی اُن کی اعلیٰ تعلیم کا بھرپور کردار تھا۔ مصباح نے یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائینسز سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ ایک اور بحران جس کا مصباح کو سامنا رہا ، وہ یہ تھا کہ ملک کے اندر دہشت گردی کی وجہ سے بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کے باعث تمام تر میچ بیرن ملک ہی کھیلے گئے۔ تاہم مصباح کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے 56 ٹیسٹ کھیلے جن میں سے 26 جیتے، 19 ہارے جبکہ باقی 11 ہارجیت کے بغیر ختم ہوئے۔ یوں مصباح کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کی جیت کا ریکارڈ سب سے بہتر ہے۔ اُنہی کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے ورلڈ نمبر ون رینکنگ بھی حاصل کی۔

کرکٹ میں ماہرانہ قیادت بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ہو سکتا ہے کہ کسی کپتان کو بہت اچھی ٹیم نہ ملے مگر ایک اچھا کپتان ٹیم کے کھلاڑیوں سے بہترین کارکردگی لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں ان تین کپتانوں کے علاوہ بہت سے دیگر کھلاڑیوں نے بھی قیادت کی لیکن اُن سب کے دور میں ٹیم بحرانوں کا ہی شکار رہی۔ اب بہت سے تجزیہ کار ان تین بڑے کپتانوں کا موازنہ کرتے ہوئے مصباح الحق کو پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین کپتان قرار دے رہے ہیں اور ان تینوں کپتانوں کے اعدادوشمار بھی یہی کچھ ثابت کرتے ہیں۔ لیکن کسی کپتان کی کارکردگی کو محض اعدادوشمار سے ہی پرکھا نہیں جا سکتا۔ حفیظ کاردار نے جب قیادت سنبھالی تو پاکستانی کرکٹ ٹیم اپنے ابتدائی دور سے گزر رہی تھی۔ اسے کرکٹ کی دنیا میں اپنا مقام بنانا تھا۔ اس میں کاردار بڑی حد تک کامیاب رہے۔ عمران خان کے دور میں کرکٹ روایتی انداز سے نکل پیشہ ور کرکٹ کے دور میں داخل ہو چکی تھی جب آسٹریلیا کہ ارب پتی کیری پیکر نے دنیا بھر کے بہترین کرکٹرز کو خطیر رقم کی پیشکش کر کے اپنی ورلڈ سیریز میں بھرتی کر لیا۔ ان ٹیموں نے پہلی بار سفید یونیفارم کے بجائے رنگین لباس استعمال کیا۔ عالمی کرکٹ کا معیار بڑھنے کے ساتھ تکنیک اور معیار میں بھی بہت نکھار آیا۔ اس مقابلے بازی کے دور میں پاکستانی ٹیم کا ورلڈ کپ جیتنا کوئی معمولی بات نہیں تھی اور اس کا سہرا کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ کپتان عمران خان کو جاتا ہے۔

مصباح الحق کے چیلنج ان دونوں سابق کپتانوں سے مختلف تھے ۔ ان حالات میں ٹیم کو ورلڈ نمبر ون تک لیجانے میں مصابح کی غیر معمولی قیادت کا کردار بہت اہم ہے۔ اب جبکہ مصباح 42 برس کی عمر میں بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہ چکے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ سرفراز اور دیگر آنے والے قائدین تینوں غیر معمولی کپتانوں کی میراث کو آگے بڑھانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ یکم مئی سے انگلستان میں شروع ہونے والی چیمینز ٹرافی سرفراز اور اُن کے کھلاڑیوں کیلئے ایک کڑا امتحان ثابت ہو گی خاص طور پر جب مڈل آرڈر میں اب اُنہیں مصباح اور یونس جیسے قابل اعتماد بیٹسمینوں کی خدمات بھی میسر نہیں ہوں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG