رسائی کے لنکس

نائن الیون حملوں پر بنی 9 مقبول فلمیں


امریکہ سمیت دنیا بھر میں بے شمار فلمیں بنیں جنہوں نے 9/11 حملوں کی داستان بیان کی۔ 

دنیا بھر میں بہت سے ایسے حادثات و واقعات رونما ہوتے ہیں جو تاریخ کا اہم حصہ بن جاتے ہیں۔ ان واقعات پر پھر بہت سی کتابیں لکھی جاتی ہیں تو کبھی فلموں کے ذریعے ان کی منظر کشی کی جاتی ہے۔

گیارہ ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے 'نائن الیون' حملے بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے جو امریکی شہریوں کے ذہنوں سے شاید کبھی نہ نکل سکے۔ اس روز دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے مسافر طیاروں کو ہائی جیک کرنے کے بعد انہیں امریکہ کے کاروباری مرکز نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور دارالحکومت واشگٹن ڈی سی میں واقع پینٹاگان کی عمارت سے ٹکرا دیا تھا۔

اس واقعے کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر میں بے شمار فلمیں بنیں جنہوں نے 9/11 حملوں کی داستان بیان کی۔

ویسے تو اسپائیڈر مین کے کردار سے تو سب ہی بخوبی واقف ہوں گے لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو یاد ہو گی کہ سن 2002 میں ریلیز ہونے والی فلم 'اسپائیڈر مین ون' کا پہلا ٹیزر ٹریلر بھی نائن الیون حملوں سے متاثر ہوا تھا۔

ٹیزر میں اسپائیڈر مین کا کردار ادا کرنے والے ٹوبی میگوائر نے بینک لوٹنے والے ایک گینگ کو ان کے ہیلی کاپٹر سمیت ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاورز کے درمیان جال کے ذریعے پھنسا دیا تھا۔ اس ٹیزر ٹریلر کے جاری ہونے کے کچھ دن بعد ہی 11 ستمبر 2001 کو یہ ٹاورز دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے۔

اب کچھ ایسی ہی مزید فلموں کے بارے میں بھی جانتے ہیں جن میں نائن الیون حملوں کی روداد بیان کی گئی ہے۔

1۔ یاسمین

فلم 'یاسمین' دنیا بھر میں نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے خلاف ہونے والے سلوک کی عکاسی بھی کرتی ہے۔
فلم 'یاسمین' دنیا بھر میں نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے خلاف ہونے والے سلوک کی عکاسی بھی کرتی ہے۔

نائن الیون کے واقعے پر بننے والی زیادہ تر فلمیں امریکہ میں مقیم لوگوں کے بدلتے حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔ لیکن 2004 میں ریلیز ہونے والی برطانوی فلم 'یاسمین' ایک ایسی خاتون کی کہانی ہے جو برطانیہ میں ہے اور اس واقعے کے بعد اس کی زندگی یک دم بدل جاتی ہے۔

معروف اداکارہ آرچی پنجابی نے کینیتھ گلینن کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ فلم میں وہ اپنے شوہر کی بے گناہی اور اسے دہشت گردی کے بے بنیاد الزام سے آزاد کرانے کے لیے آواز اٹھاتی ہے۔

فلم 'یاسمین' دنیا بھر میں نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے خلاف ہونے والے سلوک کی عکاسی بھی کرتی ہے۔

2۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر

اس فلم میں اداکار نکولس کیج اور مائیکل پینیا نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
اس فلم میں اداکار نکولس کیج اور مائیکل پینیا نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

ہدایت کار اولیور اسٹون کی سن 2006 میں ریلیز ہونے والی فلم 'ورلڈ ٹریڈ سینٹر' نے بھی باکس آفس پر خوب کامیابیاں سمیٹیں۔

فلم میں اس وقت کی منظر کشی کی گئی ہے جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا پہلا ٹاور زمین بوس ہو جاتا ہے اور لوگوں کو باہر نکالنے کی کوشش میں پورٹ اتھارٹی پولیس کے ممبر ملبے تلے پھنس جاتے ہیں۔

اس فلم میں اداکار نکولس کیج اور مائیکل پینیا نے مرکزی کردار ادا کیا تھا جب کہ میگی جیلین ہال اور مائیکل شینن بھی کاسٹ کا حصہ تھے۔

3۔ رین اوور می

فلم 'رین اوور می' کی ہدایت مائیک بنڈر کی جانب سے دی گئی ہے۔
فلم 'رین اوور می' کی ہدایت مائیک بنڈر کی جانب سے دی گئی ہے۔

ہدایت کار مائیک بنڈر کی فلم 'رین اوور می' میں اداکار ایڈم سینڈلر نے ایک ایسے شخص کا کردار نبھایا تھا جس نے نائن الیون کے حادثے کو اپنے ذہن سے نکالنے کے لیے خود کو سب سے دور کر دیا تھا۔

فلم میں جب اس کا پرانا دوست اس سے حادثاتی طور پر ملتا ہے تو اسے بہت دکھ ہوتا ہے اور وہ اپنے دوست کو واپس زندگی کی طرف لانے کی کوشش کرتا ہے۔

4۔ خدا کے لیے

اس فلم کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی اور ساتھ ہی اس کا شمار اس صدی میں بننے والی بہترین پاکستانی فلموں میں ہوتا ہے۔
اس فلم کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی اور ساتھ ہی اس کا شمار اس صدی میں بننے والی بہترین پاکستانی فلموں میں ہوتا ہے۔

سن 2007 میں ریلیز ہونے والی شعیب منصور کی پاکستانی فلم دو بھائیوں کی کہانی پر مبنی ہے جنہیں موسیقی سے محبت ہوتی ہے لیکن نائن الیون کا واقعہ ان کی زندگی بدل دیتا ہے۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ایک بھائی موسیقی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ تو دوسرا مولانا طاہری کی شاگردی میں موسیقی ترک کر کے افغانستان چلا جاتا ہے۔ اور پھر نائن الیون کا واقعہ منصور اور سرمد کی ہنستی بستی زندگی میں بدلاؤ لاتا ہے۔

فلم 'خدا کے لیے' کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی اور اس کا شمار اس صدی میں بننے والی بہترین پاکستانی فلموں میں ہوتا ہے۔

5۔ نیویارک

فلم امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نسلی تعصب کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
فلم امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نسلی تعصب کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

'بجرنگی بھائی جان ' جیسی کامیاب فلم بنانے سے قبل بالی وڈ ہدایت کار کبیر خان نے سن 2009 میں فلم 'نیویارک' بنائی تھی جس میں نائن الیون کے بعد امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے خلاف بڑھتی نفرت کی عکاسی کی گئی تھی۔

فلم کی کہانی تین دوستوں کے گرد گھومتی ہے جس میں سمیر اور مایا شادی شدہ ہوتے ہیں جب کہ عمر ان کے یونیورسٹی کے زمانے کا دوست ہوتا ہے جو ان سے کئی برس بعد ملتا ہے۔

'نیویارک' میں مرحوم بھارتی اداکار عرفان خان نے ایک ایف بی آئی افسر کا کردار ادا کیا تھا جسے سمیر پر شک ہوتا ہے اور وہ عمر پر اپنے دوست کے خلاف مخبری کے لیے دباؤ ڈالتا ہے۔

علاوہ ازیں فلم میں اداکار نواز الدین صدیقی نے بھی معاون کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے فلم کی کہانی میں ایک اہم موڑ آتا ہے۔

یہ فلم ان محرکات کا جائزہ بھی لیتی ہے کہ کب سمیر ایک اچھے امریکی مسلمان سے دہشت گرد بنتا ہے اور کس بات کا غصہ نکالنے کے لیے دہشت گردی کا منصوبہ بناتا ہے۔

6۔ مائی نیم از خان

فلم میں ملکہ ترنم نور جہاں کی پوتی سونیا جہاں نے بھی اداکاری کی تھی۔
فلم میں ملکہ ترنم نور جہاں کی پوتی سونیا جہاں نے بھی اداکاری کی تھی۔

ہدایت کار کرن جوہر کی یہ فلم ویسے تو نائن الیون حملوں کے نو برس بعد سنیما کی زینت بنی لیکن 11 برس گزر جانے کے باوجود آج بھی یہ خاصی مقبول ہے۔

'مائی نیم از خان' میں شاہ رخ خان نے ایک آٹسٹک بھارتی نوجوان رضوان خان کا کردار نبھایا تھا جو نائن الیون کے وقت امریکہ میں ہی اپنی بیوی اور سوتیلے بیٹے سمیر کے ساتھ مقیم تھا۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ایک معمولی جھگڑے میں رضوان خان کا سوتیلا بیٹا مر جاتا ہے اور اس کی بیوی یہ کہہ کر اس سے دور چلی جاتی ہے کہ اگر اس کے نام کے آگے خان نہ لگا ہوتا تو اس کا بیٹا زندہ ہوتا۔

اس سانحے کے بعد رضوان خان اپنی زندگی کا ایک مشن بنا لیتا ہے کہ وہ ساری دنیا کو بتائے گا کہ ''میرا نام خان ہے لیکن میں دہشت گرد نہیں۔''

فلم نے بھارت سمیت دنیا بھر میں کامیابی حاصل کی تھی۔ فلم میں ملکہ ترنم نور جہاں کی پوتی سونیا جہاں نے بھی اداکاری کی تھی۔

7۔ دی ری لکٹنٹ فنڈا مینٹلسٹ

اس فلم کے ذریعے معروف پاکستانی گلوکارہ میشا شفیع نے بھی اداکاری کے میدان میں قدم رکھا تھا۔
اس فلم کے ذریعے معروف پاکستانی گلوکارہ میشا شفیع نے بھی اداکاری کے میدان میں قدم رکھا تھا۔

اگر کسی کو یہ بات جاننی ہے کہ نائن الیون کے سانحے کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں کی زندگی پر کیا اثر پڑا تو وہ ہدایت کارہ میرا نائر کی فلم 'دی ری لکٹنٹ فنڈا مینٹلسٹ' دیکھ کر اندازہ لگا سکتا ہے۔

پاکستانی مصنف محسن حامد کے ناول سے ماخود اس فلم کی کہانی چنگیز خان کے گرد گھومتی ہے جسے نائن الیون کے واقعے کے بعد متعدد بار ہراسانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

فلم میں بتایا گیا ہے کہ وہی چنگیز خان جب امریکہ سے واپس پاکستان آتا ہے تو یہاں بھی تحقیقاتی ادارے اس کا پیچھا کرتے ہیں اور اپنی ہی سرزمین پر اس کے ساتھ غیروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

فلم کی کاسٹ میں مشہور ہالی وڈ اور بالی وڈ اداکار شامل تھے جن میں لیو شرائیبر، کیفر سدرلینڈ، کیٹ ہڈسن اور مارٹن ڈونوون سمیت شبانہ اعظمی، اوم پوری اور عادل حسین کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

اس فلم کے ذریعے معروف پاکستانی گلوکارہ میشا شفیع نے بھی اداکاری کے میدان میں قدم رکھا تھا جب کہ فلم کی موسیقی ترتیب دینے میں گلوکار عاطف اسلم کا بھی ہاتھ تھا۔

8۔ نائن الیون

فلم کی کہانی ایک ایسے گروپ کے گرد گھومتی ہے جو 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی لفٹ میں حملوں کی وجہ سے پھنس جاتا ہے۔
فلم کی کہانی ایک ایسے گروپ کے گرد گھومتی ہے جو 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی لفٹ میں حملوں کی وجہ سے پھنس جاتا ہے۔

نائن الیون کے سانحے پر بننے والی کچھ فلموں کو تو دنیا بھر میں پذیرائی ملی لیکن بعض فلمیں ایسی بھی تھیں جو شائقین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکیں۔ ایسی ہی ایک فلم ہدایت کار مارٹن گوئی گوئی کی 'نائن الیون' بھی ہے۔

اسٹیج پلے 'ایلیویٹر' سے ماخوذ اس فلم کو چارلی شین، ووپ گولڈ برگ، جیکولین بیسیٹ جیسے مشہور اداکاروں کی موجودگی کے باوجود ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

فلم کی کہانی ایک ایسے گروہ کے گرد گھومتی ہے جو 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی لفٹ میں حملوں کی وجہ سے پھنس جاتا ہے۔ یہ فلم نائن الیون کی 16ویں برسی سے قبل ریلیز کی گئی تھی۔

9۔ دی رپورٹ

فلم کو کووڈ-19 کی وجہ سے سنیما میں ریلیز کرنے کے کچھ ہی دنوں بعد ایمازون پرائم پر بھی ریلیز کیا گیا تھا۔
فلم کو کووڈ-19 کی وجہ سے سنیما میں ریلیز کرنے کے کچھ ہی دنوں بعد ایمازون پرائم پر بھی ریلیز کیا گیا تھا۔

ہدایت کار اسکاٹ زی برنز کی فلم 'دی رپورٹ' 2019 میں ریلیز ہوئی تھی لیکن اس کی دھوم اب بھی قائم ہے۔

فلم کی کہانی 2014 میں ریلیز ہونے والی ایک رپورٹ کے گرد گھومتی ہے جس میں نائن الیون کے بعد امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ٹارچر کو بے نقاب کیا گیا تھا۔

فلم کی کاسٹ میں ایڈم ڈرائیور کے ساتھ ساتھ اینیٹ بیننگ، جان ہیم، ٹم بلیک نیلسن اور ٹیڈ لیوین بھی شامل تھے۔

فلم کو کووڈ-19 کی وجہ سے سنیما میں ریلیز کیے جانے کے کچھ دنوں بعد ہی ایمازون پرائم پر بھی ریلیز کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG