رسائی کے لنکس

logo-print

لاپتا افراد کا نہ ملنا خطرناک ہوسکتا ہے: ماہرین


جمعہ کو دینی جماعت اہل سنت والجماعت نے بھی اپنے کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا۔ ادھر جماعت اسلامی اورسنی تحریک بھی اپنے اپنے کارکنوں کی بازیابی کے لئے بہ آواز بلند احتجاجی نعرے لگا رہی ہے

پاکستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ سیاسی ماحول کو گرما رہا ہے اور اگر فوری طور پر اسے نہ روکا گیا تو خدشہ ہے کہ بلوچستان کے بعد دوسرے صوبوں میں بھی یہ معاملہ انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بلوچستان اور سندھ، خاص کر کراچی میں، سیاسی کارکنوں کی گمشدگی دونوں الگ الگ معاملات ہیں۔ لیکن، ان کی سنجیدگی کو ایک ہی طریقے سے لینا ضروری ہے۔

احتجاج میں دوسری جماعتیں بھی شامل
ایم کیوایم کی جانب سے پارٹی کارکنوں کے مبینہ ماورائے عدالت قتل اور ان کی گمشدگی کے خلاف دو دن سے جاری احتجاج کے بعد جمعہ کو دینی جماعت اہل سنت والجماعت نے بھی اپنے کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا۔ ادھر جماعت اسلامی اور سنی تحریک بھی اپنے اپنے کارکنوں کی بازیابی کے لئے بہ آواز بلند احتجاجی نعرے لگا رہی ہے۔ اس سے قبل کہ یہ آوازیں مزید بلند ہوں، ان کا تدارک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایم کیو ایم کے مزید دو کارکنوں کی لاشیں برآمد
ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری نے جمعہ کی صبح قیوم آباد کے علاقے سے ایم کیو ایم کے مزید دو کارکنوں کی لاشیں ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے ’وی او اے‘ کو بتایا کہ ’ان دونوں ارکان کے نام سندھ اسمبلی میں 14اپریل کو پیش کی جانے والی گمشدہ کارکنوں کی فہرست میں شامل ہیں۔‘

مذکورہ فہرست میں 45کارکنوں کے نام شامل تھے اور ایم کیو ایم انہی کارکنوں کی بازیابی کے لئے جمعرات اور جمعہ کو احتجاج پر تھی۔ ایک کارکن کا نام محمد علی خان اور دوسرے کا محمد قاسم بتایا جارہا ہے۔ محمد علی خان کو 13مار چ کو آزاد کشمیر سے اور قاسم کو گزشتہ سال 28دسمبر کو کراچی ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا؛ اور بتایا جاتا ہے کہ تبھی سے دونوں کارکن غائب تھے۔

ایم کیوایم اپنے کارکنوں کی گرفتاری اور مبینہ ماورائے عدالت قتل کا ذمے دار سادہ لباس اہلکاروں کو ٹھہراتی ہے، جو بقول اس کے، بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑیوں میں سوار ہوکر آتے اور کارکنوں کو لے جاتے ہیں۔

اس سے ایک روز ہی قبل کراچی پریس کلب پر احتجاج کے دوران متحدہ کے مرکزی رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت بخوبی واقف ہے کہ کارکنوں کو کون کون لوگ گرفتار کرکے لے جاتے ہیں اور انہیں گرفتاری کا حکم کون دیتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اس معاملے کا از خود نوٹس لے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق، آنے والے دنوں میں اگر اس حوالے سے کچھ نہ کیا گیا تو سیاسی جماعتوں اور اہلکاروں میں تصادم کا خدشہ بعید از قیاس نہیں۔
XS
SM
MD
LG