رسائی کے لنکس

logo-print

ایم کیو ایم کا شہر بھر میں نئے انداز کا احتجاج


ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے خبردار کیا ہے کہ اگر الطاف حسین کی میڈیا کوریج پر پابندی ختم نہ کی گئی تو آئندہ شدید احتجاج کیا جائے گا, جبکہ ہڑتال اور دھرنوں کی کال بھی دی جا سکتی ہے

متحدہ قومی موومنٹ نے منگل کو پارٹی رہنما الطاف حسین کی تقاریر اور بیانات کی میڈیا کوریج پر پابندی کے خلاف شہر کے مختلف مقامات پر پرامن احتجاجی مظاہرے کیے۔

شرکا سے خطاب میں ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے خبردار کیا کہ اگر الطاف حسین کی میڈیا کوریج پر پابندی ختم نہ کی گئی تو، بقول اُن کے، ''آئندہ شدید احتجاج کیا جائے گا، جبکہ ہڑتال اور دھرنوں کی کال بھی دی جاسکتی ہے''۔

شہر کی متعدد اہم شاہراہوں پر ہونے والے ان مظاہروں میں پارٹی رہنماوٴں سمیت کارکنوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین چوراہوں اور سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر، پرامن کھڑے تھے، جبکہ ان کے ہاتھوں میں قومی و پارٹی پرچم کے علاوہ پلے کارڈ اور بینر تھے جن پر پارٹی کے سربراہ الطاف حسین کی حمایت میں اور ان کی تقاریر پر عائد پابندی کیخلاف مختلف نعرے درج تھے۔

مظاہرے کے دوران کہیں بھی ٹریفک میں خلل پیدا نہیں ہوا اور ٹریفک معمول کے مطابق جاری رہی۔ اطراف سے گزرنے والی گاڑیوں میں بیٹھے اور پیدل گزرنے والے لوگ پرامن اور خاموش احتجاج کو خوش گوار حیرت سے دیکھ رہے تھے۔

ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے احتجاج کے دوران ٹریفک میں بھی کوئی خلل پیدا نہیں ہوا۔ لیکن، دوسرے مرحلے میں ہم ہڑتال اور دھرنے کی کال بھی دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم ٹرانسپورٹرز سے مشاورت کے بعد ہڑتال کی کال دے گی۔

فائیو اسٹار چورنگی، لیاقت آباد دس نمبر، حسن اسکوائر، ریگل چوک، دوتلوار کلفٹن، بابر مارکیٹ لانڈھی، چنیوٹ مارکیٹ کورنگی، نمائش چورنگی، واٹر پمپ، گرومندر، گولیمار، اسٹار گیٹ شاہراہ فیصل سمیت درجنوں مقامات پر ہونے والے ان مظاہروں میں ایم کیو ایم کے مرکزی قائدین بھی شریک تھے۔

کچھ عرصہ قبل لاہور ہائیکورٹ نے اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزام میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تقاریر اور بیانات کی کوریج پر پابندی کا حکم دیا تھا، جس کے بعد سے پاکستانی میڈیا پر ان کی تقریر یا بیان نشر اور شائع نہیں کیا جا رہا۔

XS
SM
MD
LG