رسائی کے لنکس

logo-print

ایم کیو ایم ریفرنڈم: رائے شماری جاری، فیصلہ جمعہ کو


ریفرنڈم میں سوال کیا گیا تھا کہ کیا متحدہ قومی موومنٹ کو سندھ حکومت میں شامل ہونا چاہیئے؟

متحدہ قومی موومنٹ صوبہ ِسندھ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ شریک ِاقتدار بنے یا نہیں، اس حوالے سے ملک بھر میں جمعرات کو عوامی ریفرنڈم منعقد کیا گیا۔ ریفرنڈم کے بعد رائے شماری جاری ہے جبکہ اس کا حتمی فیصلہ جمعہ کو سنایا جائے گا۔

ریفرنڈم میں عوامی رائے جاننے کے لئے باقاعدہ ایک بیلٹ پیر تیار کیا گیا تھا جس میں سوال کیا گیا تھا کہ کیا متحدہ قومی موومنٹ کو سندھ حکومت میں شامل ہونا چاہیئے ؟جواب کے لئے عوام کو دو آپشن دیئے گئے تھے ’ہاں‘۔۔اور ۔۔ ’نہیں‘

عوام کو اپنی رائے دینے کے لئے صبح 9 بجے سے شام5 بجے تک کا وقت دیا گیا تھا۔ عوامی رائے کے لئے ملک بھر میں قائم ایم کیو ایم کے صوبائی، ضلعی، زونل اور سیکٹر یونٹ دفاتر میں خصوصی کیمپس لگائے گئے تھے جبکہ مرکزی کیمپ الطاف حسین کی کراچی میں واقع پرانی رہائش گاہ 90 عزیز آباد میں قائم کیا گیا تھا۔ یہی رہائش گاہ ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر کی بھی حیثیت رکھتی ہے۔

ریفرنڈم کے لئے کراچی میں الکرم اسکوائر، طارق روڈ، اورنگی، کورنگی، ٹی این ٹی کالونی، ملیر اورکلفٹن میں بھی خصوصی کیمپس قائم کئے گئے تھے۔ ریفرنڈم میں پارٹی کارکنوں، ہمدردوں اور عوام کی بڑی تعداد نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

ریفرنڈم میں اندرون ِسندھ کے لوگوں نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ رائے شماری کے لئے سندھ کے شہروں حیدرآباد، میر پورخاص، سکھر، نوابشاہ، سانگھڑ، ٹنڈوالہیار، جام شورو، عمر کوٹ، ٹھٹھہ، بدین، گھوٹکی، خیر پور، نوشہرو فیروز، دادو، لاڑکانہ، قمبر شہداد کوٹ، شکار پور، کشمور اور جیکب آباد میں کیمپس قائم کئے گئے تھے۔

سندھ کے علاوہ بالائی پنجاب، مغربی پنجاب، جنوبی پنجاب کے مختلف زونز کے علاوہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت و بلتستان اور آزاد کشمیر میں واقع کیمپوں میں بھی عوامی رائے شماری ہوئی۔

جمعرات کو رات گئے تک ملک بھر سے آنے والے نتائج کو اکٹھا کیا جاتا رہا جس کی گنتی کے بعد اس کے نتائج کا اعلان جمعہ کو کیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG