رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ نے تحقیقات روکنے کی متعدد کوششیں کیں، ملر رپورٹ


امریکہ کے صدارتی انتخابات میں روس کے کردار سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے تحقیقات پر اثرانداز ہونے کے علاوہ خصوصی تفتیش کار رابرٹ ملر کو ہٹانے کی بھی کوشش کی۔

رابرٹ ملر نے 2016ء کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت سے متعلق 448 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ جمعرات کو جاری کی ہے۔

رابرٹ ملر نے اپنی رپورٹ میں کئی جگہوں پر دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے بار بار تحقیقات کے راستے میں رکاوٹ بننے کی کوشش کی۔ تاہم صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں نے صدر کے احکامات کو نظر انداز کیا جس کے باعث وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

رپورٹ کے مطابق ایک موقع پر صدر ٹرمپ تحقیقات پر اتنے غصے میں تھے کہ انہوں نے کہا کہ "یہ خوفناک ہے اس سے میری صدارت جا سکتی ہے۔"

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق صدرٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے کونسل ڈان میکگن کو تحقیقات کی نگرانی پر مامور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو طلب کرنے کا کہا۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ نے انہیں ہدایت دی کہ رابرٹ ملر کو کام کرنے سے روک دینا چاہیے۔ لیکن انہوں نے صدر کی ہدایت پر عمل نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے تحقیقات روکنے کے لیے اپنی صدارتی مہم کے مینیجر کورے لیونڈوسکی کو ہدایت کی کہ وہ اس وقت کے اٹارنی جنرل سے ملیں۔ اور انہیں پیغام پہنچائیں کہ یہ تحقیقات صدر کے ساتھ نا انصافی ہیں۔ لیکن مینیجر نے پیغام آگے نہیں پہنچایا۔

رپورٹ کے اجراء پر صدر ٹرمپ نے ٹوئٹ کے ذریعے 'گیم آف تھرون' کی نقل کرتے ہوئے اپنے ردِ عمل میں اسے ایک اچھا دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب کہانی ختم ہو گئی ہے۔

ڈیموکریٹ اور ری پبلکن قانون سازوں نے جمعرات کو 2016ء کے صدارتی انتخاب میں مبینہ روسی گٹھ جوڑ پر جاری ہونے والی خصوصی تفتیشی اہلکار رابرٹ ملر کی رپورٹ پر مختلف نوعیت کے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

تفتیش کاروں کے مطابق کہ 2016ء کے انتخابات میں روسی مداخلت سے متعلق ٹرمپ کی انتخابی مہم میں سے کسی نے جان بوجھ کر کوئی ساز باز نہیں کی۔ لیکن انھوں نے صدر کو اس بات سے بری الذمہ قرار نہیں دیا کہ اُنھوں نے انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کے اقدام نہیں کیے۔

ایک بیان میں اوکلوہاما سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن سینیٹر جیمز انہوف نے ملر کی رپورٹ کو "شور زیادہ تھا، کوئی گٹھ جوڑ اور کوئی رکاوٹ" ثابت نہیں ہو پائی۔ اُنھوں نے الزام لگایا کہ ڈیموکریٹس نے "صدر کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔"

دریں اثنا ڈیموکریٹس نے اس بات کا عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ٹرمپ کے اقدامات کی چھان بین جاری رکھیں گے۔

نیو یارک سے ڈیموکریٹ رکن ایوانِ نمائندگان جیری نادلر نے اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "خصوصی تفتیشی اہلکار نے واضح کیا ہے کہ اُنھوں نے صدر کو الزام سے بری نہیں کیا اور اب یہ کانگریس کی ذمے داری ہے کہ وہ صدر کے اقدامات پر ان کا احتساب کرے۔"

انھوں نے کہا کہ "اس بات کی ضرورت ہے کہ کانگریس مکمل رپورٹ سامنے رکھ کر خصوصی تفتیشی اہل کار ملر کی جانب سے پیش کردہ ثبوت پر غور کرے۔"

ڈیموکریٹ قانون سازوں نے ملر رپورٹ کے ان حصوں کی نشاندہی کی ہے جن میں 2016ء کے صدارتی انتخابات میں مدِ مقابل ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن کو نقصان پہنچانے کے لیے ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں کی جانب سے غیر ملکی کارندوں سے رابطے کیے گئے؛ جن میں ان کی اِی میلوں کو ہیک کرنا اور حساس اِی میلوں کو جاری کرنا شامل ہے۔

اُنھوں نے ان واقعات کی دستاویزات کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی جن میں ٹرمپ نے روس سے متعلق چھان بین کو روکنے کی مبینہ کوشش کی۔

ڈیموکریٹ رکن کانگریس، بریڈ شرمن نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ "ملر نے گٹھ جوڑ دکھائی ہے، جو شاید مجرمانہ گٹھ جوڑ نہیں ہے۔ اِی میلوں کو جاری کرنا گٹھ جوڑ ہے، لیکن ہیکنگ ایسا عمل نہیں ہے۔ ملر نے مجرمانہ رکاوٹ ڈالنے کی کئی مثالیں پیش کی ہیں۔"

اس سے قبل اخباری کانفرنس کرتے ہوئے اٹارنی جنرل ولیم بر نے کہا کہ "ڈپٹی اٹارنی جنرل اور میں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خصوصی تفتیشی نمائندے نے جو ثبوت پیش کیے ہیں وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں کہ صدر ٹرمپ یا اُن کی صدارتی مہم کے کسی اہل کار نے انصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔"

امریکی اٹارنی جنرل نے تفتیشی رپورٹ جاری کرنے سے قبل رپورٹ کی چند تفصیلات پیش کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم اور روس کے درمیان کسی قسم کی ساز باز کے کوئی اشارے نہیں ملے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG