رسائی کے لنکس

logo-print

فیض احمد فیض کی بیٹی منیزہ ھاشمی کو دہلی سے ’ڈی پورٹ‘ کر دیا گیا


ٹیلی ویژن کی معروف شخصیت اور اُردو کے نامور شاعر فیض احمد فیض کی صاحبزادی منیزہ ھاشمی کو دہلی میں ایک کانفرنس میں شرکت سے روکتے ہوئے اُنہیں ’ڈی پورٹ‘ کر دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دہلی میں 10 مئی سے 12 مئی تک منعقد ہونے والے 15 ویں ایشیا میڈیا سمٹ اجلاس میں شرکت کرنے اور اجلاس سے خطاب کرنے کیلئے اُنہیں مدعو کیا گیا تھا لیکن جونہی وہ دہلی پہنچیں تو منتظمین کے مطابق اُنہیں حکومت سے ہدایت ملی کہ منیزہ ھاشمی کو نہ تو ہوٹل میں چیک ان کرنے دیا جائے، نہ ہی کانفرنس میں اپنے نام کا اندراج کرنے دیا جائے اور اُنہیں اجلاس سے خطاب کرنے کی بھی اجازت نہ دی جائے۔

ہدایت موصول ہونے کے بعد منتظمین نے اُن کو کسی دوسرے ہوٹل میں ٹھہرا دیا اور اگلی صبح اُنہیں واپس پاکستان روانہ کر دیا گیا۔ اس کانفرنس کا اہتمام ایشیا پیسفیفک انسٹی ٹیوٹ فار براڈکاسٹنگ ڈویلپمنٹ نے بھارت کی وزارت اطلاعات و نشریات کے اشتراک سے کیا تھا۔

منیزہ ھاشمی کے بیٹے علی ھاشمی نے بھارتی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے نام ایک ٹویٹ میں لکھا ہے :

’’یہ آپ کا روشن بھارت ہے؟ میری 72 سالہ والدہ اور فیض احمد فیض کی صاحبزادی کو سرکاری طور پر مدعو کرنے کے باوجود کانفرنس میں شرکت سے روک دیا گیا۔ یہ شرمناک ہے۔‘‘

منیزہ ھاشمی کا کہنا ہے کہ اُنہیں اس اقدام کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ وہ اس سے قبل متعدد بار بھارت کے مختلف شہروں کا دورہ کر چکی ہیں اور اُنہیں پہلے کبھی ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

منیزہ ھاشمی کہتی ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان بہت سے مسائل موجود ہیں اور دونوں ملکوں کے لوگوں کے آپس میں میل جول سے ان کے حل میں مدد مل سکتی ہے اور اُن کے والد فیض احمد فیض کا پیغام بھی یہی تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG