رسائی کے لنکس

logo-print

پرویز مشرف کے انتخابات میں حصہ لینے پر ’تاحیات پابندی‘


قومی اسمبلی کے چار حلقوں قصور، کراچی، اسلام آباد اور چترال سے پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جا چکے ہیں۔

پاکستان کی ایک عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی عائد کر دی ہے۔

اس سے قبل قومی اسمبلی کے چار حلقوں قصور، کراچی، اسلام آباد اور چترال سے پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جا چکے ہیں۔

چترال کے حلقے سے اپنے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف پرویز مشرف نے پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے دلائل سننے کے بعد سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی عائد کر دی۔

پرویز مشرف 24 مارچ کو چار سالہ خودساختہ جلاوطنی ختم کر کے پاکستان واپس آئے تھے اور اُنھوں نے 11 مئی کے انتخابات کے لیے قومی اسمبلی کے چار حلقوں این اے 250 کراچی، این اے 139 قصور، این اے 48 اسلام آباد اور این اے 32 چترال سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔

اسلام آباد، کراچی اور قصور کے حلقوں سے ان کے کاغذات پہلے ہی مرحلے میں مسترد کر دیئے گئے تھے جب کہ چترال میں ریٹرننگ افسر نے پہلے مرحلے میں پرویز مشرف کے کاغذات منظور کیے تھے لیکن ان کے مخالف امیداوار نے الیکشن ٹربیونل میں اس پر اعتراضات جمع کروائے۔

الیکشن ٹربیونل نے اعتراضات کو درست قرار دیتے ہوئے پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے۔
XS
SM
MD
LG