رسائی کے لنکس

logo-print

مشرف کی وطن واپسی کا فیصلہ موخر کرنے کی اطلاعات


مشرف کی وطن واپسی کا فیصلہ موخر کرنے کی اطلاعات

پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کے پیش نظر سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے اطلاعات کے مطابق خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپسے آنے کا اپنا ارادہ ملتوی کر دیا ہے۔

ان کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے سندھ میں سیکرٹری جنرل حارث نواز کے بقول سابق فوجی صدر کےسیاسی اور غیر سیاسی رفقا نے انھیں مشورہ دیا ہے کہ وہ ملک کے موجودہ سیاسی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی واپسی موخر کردیں لیکن اس بارے میں انھوں نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

اسلام آباد میں پارٹی کے ایک ترجمان ریحان اسلم نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ان کے پاس پرویز مشرف کے پروگرام کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے البتہ ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر جمعرات کو لندن میں ایک اہم نیوز کانفرنس سے خطاب کرنے والے ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں مسٹر مشرف نے لندن سے پاکستان میں اپنی جماعت کے کارکنوں اورحامیوں سے ویڈیو فون کے ذریعے خطاب میں اعلان کیا تھا کہ وہ 27 اور 30 جنوری کے درمیان کسی بھی روز کراچی پہنچیں گے تاکہ وہ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لے سکیں۔

سابق فوجی صدر کا کہنا تھا کہ وہ چترال سے انتخاب میں حصہ لیں جہاں ان کے بقول انھیں مقامی عوام کی تائید حاصل ہے۔ تاہم دبئی میں مقیم پارٹی کے ذرائع کے بقول مخالفین پاکستان میں پائی جانے والی موجودہ سیاسی کشیدگی کا فائدہ اٹھانے کے لیے پرویز مشرف کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں اور اسی تناظر میں انھیں وطن واپس نا آنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

پاکستان میں وفاقی اور سندھ کی صوبائی انتظامیہ پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ پرویز مشرف جس دن کراچی کے ہوائی اڈے پر اتریں گے انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔

صوبہ سندھ کے وزیر داخلہ منظور وسان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مقتول رہنما بے نظیر بھٹو کے مقدمہ قتل میں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت سابق صدر پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری جاری کرچکی ہے۔ جب کہ انھوں نے کہا کہ سابق صدر کو گرفتار کرنے کے بعد بلوچستان کی صوبائی حکومت کے حوالے بھی کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اس صوبے میں ان کے خلاف بزرگ بلوچ رہنما اکبر بگٹی کے قتل کا مقدمہ بھی درج ہے۔

XS
SM
MD
LG