رسائی کے لنکس

logo-print

مشرف نے وائٹ ہاؤس کی رپورٹ مسترد کر دی


مشرف نے وائٹ ہاؤس کی رپورٹ مسترد کر دی

پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے وائٹ ہاؤس کی حالیہ اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج طالبان اور القاعدہ کے خلاف اقدامات سے گریزاں ہے۔

پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے وائٹ ہاؤس کی حالیہ اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج طالبان اور القاعدہ کے خلاف اقدامات سے گریزاں ہے۔

ایک امریکی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں سابق فوجی حکمران نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردارکا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکی رپورٹ حقائق کے بارے میں غلط فہمی پیدا کرتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں پاکستانی حکومت کو پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں حالات قابو میں لانے کے لئے طالبان کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہیے۔

پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ وہ فی الوقت لندن میں ہی قیام پذیر رہیں گے اور وہاں سے اپنی سیاسی جماعت کو مضبوط کرنے کے لئے کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر اعادہ کیا کہ وہ آئیندہ انتخابات میں حصہ لینے کے لئے پاکستان جائیں گے۔

سابق صدر نے دو اکتوبر کو ایک نئی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان میں انہیں کئی مقدمات کا سامنا ہے ۔

جنرل مشرف نے 1999میں ایک فوجی کارروائی کے بعد ملک کا اقتدار سنبھالا تھا ا ور سن 2008میں صدر کی حیثیت سے مستعفی ہوئے۔

XS
SM
MD
LG