رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی و امریکی عوام کے درمیان موسیقی کے جڑتے تار


پاکستان کا کلچر اور موسیقی کا ورثہ بہت رنگا رنگ اور خوبصورت ہے۔ موسیقی کے خوبصورت سر دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کو قریب لائیں گے

کراچی ... کہتے ہیں موسیقی روح کی غذا ہوتی ہے اور دلوں کو ملانے کا سبب بھی۔ موسیقی زبان اور ملکوں کی حدود کی قید سے آزاد ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب ساز چھیڑے جاتے ہیں تو فاصلے سمٹنے لگتے ہیں۔ اب موسیقی ہی ذریعہ بننے والی ہے امریکی اور پاکستانی عوام کو قریب لانے کا۔

امریکا اور پاکستان کے درمیان یوں تو کئی شعبوں میں تعاون کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس بار دونوں ملکوں نے ایک دوسرے سے اشتراک کے لئے جو میدان منتخب کیا ہے وہ ہے موسیقی۔

پاکستانی اور امریکی نوجوانوں کو ایک دوسرے کے ملکوں کی موسیقی اور ثقافت سے روشناس کرانے کے لئے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ جو عرف عام میں ’ناپا‘ کے نام سے مشہور ہے اور امریکا کی یونیورسٹی آف ٹیکساس۔آسٹن کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب کراچی میں واقع ناپا کی تاریخی عمارت میں منعقد ہوئی۔ امریکی قونصل جنرل مائیکل ڈوڈمین اور ناپا کے صدر ضیا الدین نے معاہدے پر دستخط کئے جس کے تحت امریکی اور پاکستانی طالب علم ایک دوسرے کے تعلیمی اداروں میں موسیقی کی تعلیم حاصل کرسکیں گے۔

اس موقع پر امریکی قونصل جنرل مائیکل ڈوڈمین کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کلچر اور موسیقی کا ورثہ بہت رنگارنگ اور خوبصورت ہے۔ موسیقی کے خوبصورت سر دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کو قریب لائیں گے۔ ناپا اور یونیورسٹی آف آسٹن امریکی و پاکستانی ٹیچرز اور طالب علموں کو موسیقی کے ہرشعبے کی تعلیم دیں گے۔ پاکستانی نوجوان امریکا جاکر اور امریکی نوجوان پاکستان آکر کمپوزیشن، میوزک تھیوری اور بہت سے ساز مثلاً پیانو، گٹار، ستار سیکھ سکیں گے۔

ناپا کے صدر ضیا محی الدین نے کہا کہ معاہدے پر رسمی دستخط سے پہلے بھی جنوری میں ناپا کے چار طالب علم یونیورسٹی آف ٹیکساس سے موسیقی کی تعلیم حاصل کرکے آچکے ہیں۔ چار مہینے کے دوران ان طالب علموں نے بہت کچھ سیکھا بھی اور اپنے تجربات امریکی نوجوانوں کے ساتھ شیئر بھی کئے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ معاہدے کے تحت یونیورسٹی آف ٹیکساس 20ہزار ڈالرز مالیت کا جو ہارڈویئر خریدے گی وہ بعد میں ناپا کو تحفے کے طور پر دے دیا جائے گا۔

ضیا محی الدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ فی الحال دونوں اداروں میں تعاون صرف موسیقی تک محدود ہے، لیکن توقع ہے کہ یہ تعاون جلد ہی تھیڑ آرٹس تک پھیل جائے گا۔

تقریب کے اختتام پر سجائی گئی محفل موسیقی میں پاکستانی اور امریکی میوزیشنز نے اپنے فن اور فیوژن سے شرکا کو خوب محظوظ کیا۔ تقریب میں اپنی موسیقی کی صلاحیتوں کا جادو جگانے والوں میں امریکی کلچرل اتاشی فلپ اسس بھی شامل تھے۔

XS
SM
MD
LG