عید کے دن کے حوالے سے مشہور ہے کہ عید بچوں کی ہوتی ہے۔ اس کی خوشیاں صحیح طور پر بچے ہی انجوائے کرتے ہیں۔ بچوں کا تعلق کسی بھی ملک، کسی بھی شہر سے ہو اس دن کے حوالے سے سب کی پسند تقریباً یکساں ہوتی ہیں۔ مثلاً غبارے خریدنا، چشمے پہننا، جھولے جھولنا اور کھلونے خریدنا۔ لیکن اس بار یہ خوشیاں کرونا وائرس کی پابندیوں کی نذر ہو گئی ہیں۔
بچوں کی عید کی خوشیاں کرونا کی نذر
5
افغانستان کے صوبے لغمان میں بھی بچوں نے عید کو کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر روایتی انداز میں نہیں منایا۔ نماز عید ادا کی اور گاڑی میں بیٹھ کر سیدھے گھر کی راہ لی۔
6
جنوبی ایشیا ہو یا افریقہ، بچوں میں عید کے دن رنگ برنگی چشمے پہننے کا شوق یکساں ہوتا ہے۔ نائجیریا میں بہت سے بچوں نے اپنے والد اور قریبی عزیزوں کے ساتھ نماز عید ادا کی اور موٹر سائیکل پر بیٹھ کر شہر بھر کی سیر کی۔
7
صومالیہ کے شہر موغادیشو میں بچوں نے عید کے دن نئے کھلونے خرید کر اپنی عید کو انجوائے کیا۔
8
جنوبی لبنان کے شہر سیڈن میں بچوں نے جی بھر کر غبارے خریدے۔ عید کی خوشیوں میں غبارے خریدنا بھی دنیا کے بہت سے ممالک میں بچوں کا شوق ہے۔