رسائی کے لنکس

مسلمانوں سے متعلق بھارتی فوج کے سربراہ کے بیان پر نکتہ چینی


فائل فوٹو

سہیل انجم

بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن راوت اپنے ایک سیاسی بیان کی وجہ سے تنازعات میں گھر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل کی زیر قیادت آل انڈیا یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ جو کہ آسام میں مسلمانوں کے مفادات کا چیمپئن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، آسام میں جتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے اتنی تیزی سے 1980 میں بی جے پی بھی نہیں بڑھی تھی۔

ان کے اس بیان پر بدرالدین اجمل اور رکن پارلیمنٹ و مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی کی جانب سے شدید نکتہ چینی کے بعد فوج کو وضاحتی بیان دینے پر مجبور ہونا پڑا۔

فوج کی جانب سے کہا گیا کہ اس بیان میں کچھ بھی سیاسی یا مذہبی نہیں ہے۔ آرمی چیف 21 فروری کو منعقدہ ایک سیمینار میں صرف شمال مشرق میں انضمام اور ترقی کا ذکر کر رہے تھے۔

جنرل راوت نے آسام میں بنگلہ دیشیوں کی مبینہ دراندازی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہاں لوگوں کی جو منصوبہ بند آمد ہے وہ ہمارے مغربی ہمسائے کی وجہ سے ہے۔ ان کا اشارہ پاکستان کی جانب تھا۔ ان کا الزام ہے کہ وہ درپردہ دراندازی کروا کر اس علاقے کو ہتھیانا چاہتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس منصوبہ بند کوشش کو شمالی سرحد یعنی چین کی حمایت حاصل ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ مسئلے کی شناخت کی جائے اور اسے ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔

پاکستان ایسے کسی بھی الزام کی سختی سے ترديد کرتا اور دراندازی میں اپنا ہاتھ ہونے سے انکار کرتا ہے۔

بدرالدین اجمل نے کہا کہ ان کی پارٹی اگر ریاست میں بی جے پی سے آگے نکل رہی ہے تو اس پر فوجی سربراہ کیوں فکرمند ہیں۔ جبکہ اسد الدین اویسی نے ان کے بیان کو نامناسب قرار دیا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

ادھر وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے جنرل راوت کے بیان پر کچھ بولنے سے انکار کر دیا۔ بقول ان کے کسی شخص نے کوئی بیان دیا اس پر کسی اور نے رد عمل ظاہر کیا تو اس پر میں کوئی تبصرہ کیوں کروں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG