رسائی کے لنکس

بھارتی آرمی چیف کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے، پاکستان کا ردعمل


پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف، فائل فوٹو

علی رانا

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنر آصف غفور کا کہنا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان غیرذمے دارانہ ہے۔ آرمی چیف فور اسٹار عہدے کا افسر ہوتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ آرمی چیف ایک ذمے دارانہ تقرری ہوتی ہے۔ اس قسم کے غیر ذمے دار بیانات اہم عہدے والوں کو زیب نہیں دیتے۔

پاکستان کی سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک ٹیلی فونک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان میں ریاستی دہشت گردی میں ناکام ہو چکا ہے جب کہ بھارت ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا۔

ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے کہا تھا کہ اگر نئی دہلی کی انتظامیہ ہمیں حکم دیتی ہے تو ہم کسی بھی وقت سرحد عبور کر کے پاکستان کو سبق سکھانے اور ان کی جوہری دھمکیوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے یہ تبصرہ پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کے سوال کے جواب دیتے ہوئے کیا، جس نے پوچھا تھا کہ سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث کیا پاکستان کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ موجود ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی فوج ہمسایہ ملک چین کے ساتھ بہت جلد ہاٹ لائن قائم کر رہی ہے جس سے سرحدی معاملات سلجھانے میں مدد ملے گی۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ دونوں جوہری ریاستوں کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔ بھارت ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا جب کہ بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ ہم پاکستان کے خلاف کسی بھی بھارتی مس ایڈونچر کا جواب دیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی کے ذریعے ہمیں نشانہ بنارہا ہے لیکن اس میں بھی وہ ناکام ہوچکا ہے اور اگر بھارت روایتی جنگ کے ذریعے ہم پر بھاری ہوسکتا تو اب تک ہوجاتا۔

وزیرخارجہ خواجہ آصف نے اپنی ایک ٹویٹ میں بھارتی آرمی چیف کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارت ہمارے عزم کی آزمائش چاہتا ہے تو اسے خوش آمدید کہتے ہیں۔ بھارتی آرمی چیف کی خوش فہمی باآسانی دور کر دیں گے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی بھارتی فوج کے سربراہ کے بیان کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور دھمکی آمیز قرار دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ غلط اندازوں کی بنیاد پر کسی مہم جوئی سے پرہیز کرنا چاہیے اور پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہمہ وقت مکمل طور پر تیار ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک عرصہ سے کشیدہ تعلقات ہیں اور دونوں جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کی جاتے ہیں ۔ دونوں ممالک کے درمیان لفظی جنگ ایک معمول بن چکا ہے جس میں کسی بھی معاملہ پر سخت بیانات دیے جاتے ہیں۔ مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے معاملہ کے بعد دونوں ممالک کی طرف سے ان بیانات میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG