رسائی کے لنکس

کوئٹہ کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر، مراد اسماعیل نے کہا ہے کہ ٹیم کا نام بدل کر کراچی گلیڈی ایٹرز رکھ لیں۔

’پاکستان پریمیر لیگ‘ کے تیسرے ایڈیشن میں ابھی کچھ مہینے باقی ہیں۔ لیکن، اس سے جڑی گہماگہمی اور سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے سربراہ، مصطفیٰ کمال پی ایس ایل کی ٹیم، ’کوئٹہ گلیڈی ایٹرز‘ سے ناراض ہوگئے ہیں۔

مصطفیٰ کمال ’کوئٹہ گلیڈی ایٹرز‘ میں بلوچستان کے کرکٹروں کو موقع نہ دئیے جانے پر خوش نہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ ’کوئٹہ گلیڈی ایٹرز‘ کے لئے انتخاب میں بلوچستان کے کھلاڑیوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا۔

’دی ایکسپریس ٹری بیون‘ کے مطابق، مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ’’پی ایس ایل 3 کا ہونا اچھی بات ہے۔ لیکن، ٹورنامنٹ میں کوئٹہ کی نمائندگی کرنے والی ’کوئٹہ گلیڈی ایٹرز‘ میں بلوچستان سے تعلق رکھنا والا کوئی ایک کھلاڑی بھی موجود نہیں۔‘‘

’کوئٹہ ۔۔کا نام بدل کر ‘کراچی گلیڈی ایٹرز‘ رکھ لیں
کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کوئٹہ کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر مراد اسماعیل نے بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بلوچستان یا کوئٹہ کے کھلاڑی کوٹیم میں سلیکٹ نہیں کرنا چاہتے، تو ٹیم کا نام بدل کر کراچی گلیڈی ایٹرز رکھ لیں۔

انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے ٹیم کے خلاف ایکشن لینے اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی مینجمنٹ کسی ایسے فردکے حوالے کرنے کی اپیل کی جو کوئٹہ کے کھلاڑیوں کی بہتری کے لئے کام کرے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکے مالک ندیم عمر نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے کوئٹہ سے 21 کھلاڑی منتخب کئے ہیں۔ کوئی ایک باصلاحیت کھلاڑی چاہے نوجوان ہویا سینئر ،پی ایس ایل3میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکی ٹیم کا حصہ ہوگا۔‘‘

بلوچستان کے ٹاپ آرڈر بیٹسمین بسم اللہ خان پی ایس ایل کے پچھلے دو ایڈیشنز کا حصہ تھے۔ لیکن، انہیں پی ایس ایل 3کے لئے ٹیم میں نہیں رکھا گیا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بسم اللہ خان سے بہتر کھلاڑی دستیاب ہیں اس لئے ان کا انتخاب نہیں کیا گیا۔ اور، وہ اس بات کے پابند بھی نہیں کہ جس خطے یا شہر کی وہ نمائندگی کر رہے ہیں، اس کے کھلاڑیوں کو لازمی ٹیم میں شامل کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG