رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر جانے والی پاکستانی کشمیر کی خواتین کو جدائی کا غم: رپورٹ


سری نگر

اطلاعات کے مطابق، شادی کے بعد پاکستانی کشمیر سے گئی ہوئی خواتین نے ہفتے کے روز سرینگر میں پاکستان آنے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کی رہائشی پروین اختر ان 219 خواتین میں شامل ہیں جو شادی کے بعد بھارتی کشمیر جانے والی اپنی بیٹییوں کی جدائی کے صدمے سے دوچار ہیں۔

پروین اختر کی بیٹی، نوشین کی شادی 2006ء میں بھارتی کشمیر کے سوپور کے قصبے کے علاقے سردار پورہ سے جنگ بندی لائن عبور کرکے مظفراباد آنے والے ایک نوجوان سے ہوئی تھی۔

2014 میں بھارتی کشمیر کی حکومت کی طرف سے حدبندی لائن کے اس پار قیام پذیر نوجوانوں کی اپنے علاقوں میں واپسی اور بحالی کے پیکیج کا اعلان کیا گیا۔

اس کے بعد، پاکستانی کشمیر سے1000 خاندانوں نے واپسی کے لیے رجوع کیا اور بھارتی کشمیر کی حکومت کی طرف سے صرف 219 خاندانوں کو نیپال کے راستے واپسی کی اجازت مل سکی، جن میں نوشین کا خاندان بھی شامل تھا۔

لیکن، بھارتی حکومت کی طرف سے نوشین سمیت ان 200 سے زائد خواتین کو پاکستان میں اپنے خاندان سے ملنے کے لیے آنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

پروین کہتی ہیں کہ وہ اپنے بیٹی اور نواسوں سے ملنے کے لیے بے تاب ہیں۔ انہیں ملنے لیے یہاں نہیں آنے دیا جا رہا۔

نوشین کی چھوٹی بہن سحر نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ کبھی کبھی ٹیلیفون پر بہن سے رابطہ ہوتا ہے۔ اور بتاتی ہیں کہ وہاں سے شادی ہو کر یہاں آنے والی خواتین بہت پرشان ہیں کہ دکھ سکھ کے موقع پر اپنے والدین کے پاس نہیں جا سکتیں۔

مظفرآباد کی ہی کبریٰ گیلانی کی بھارتی کشمیر کے الطاف راتھر کے ساتھ 2010 میں شادی ہوئی اور 2014 میں وہ خاوند کے ہمراہ براستہ نیپال بھارتی کشمیر پہنچ گئیں۔

نومبر 2018 میں الطاف راتھر نے کبریٰ کو طلاق دیدی، تب سے کبریٰ گیلانی واپس پاکستانی کشمیر میں اپنے والدہ کے پاس آنے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔ اسی دوران، گذشتہ ماہ اس کے والد کا انتقال ہوگیا۔ لیکن، وہ باپ کے جنازے میں بھی نہ آسکی۔

کبریٰ کا کہنا ہے کہ ’’بھارتی کشمیر میں بیاہ کر آنے والی عورتیں اس لیے سخت پرشان ہیں کہ خوشی اور غمی کے موقع پر بھی انہیں اپنے خاندان سے نہیں ملنے دیا جا رہا‘‘۔

کبریٰ کہتی ہیں کہ ’’یہاں پھنسی عورتوں کی اپیل ہے کہ انکو غم کے موقع پر تو والدین سے ملنے دیا جائے‘‘۔

پاکستانی کشمیر کی حکومت کے ترجمان راجہ محمد وسیم خان نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا ہے کہ یہاں سے جانے والے خاندان سخت حالات کا شکار ہیں۔ بالخصوص عورتیں سخت صدمے میں ہیں، کیونکہ انکو والدین سے ملنے کے لیے آنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

بھارتی کشمیر سے اپنے خاندان کے ساتھ 90 کی دہائی میں پاکستانی کشمیر ہجرت کرنے والے حمزہ شاہین نے بتایا کہ یہاں سے جانے والے خاندانوں کو کئی مصیبتوں کا سامنا ہے۔ وہاں سکیورٹی فورسز کی طرف سے انکی سخت نگرانی کی جاتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، پاکستانی کشمیر سے شادی ہو کر گئی ہوئی خواتین نے ہفتے کے روز سرینگر میں پاکستان آنے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

وائس آف امریکہ اردو کی سمارٹ فون ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور حاصل کریں تازہ ترین خبریں، ان پر تبصرے اور رپورٹیں اپنے موبائل فون پر۔ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

اینڈرایڈ فون کے لیے: https://play.google.com/store/apps/details?id=com.voanews.voaur&hl=en

آئی فون اور آئی پیڈ کے لیے: https://itunes.apple.com/us/app/%D9%88%DB%8C-%D8%A7%D9%88-%D8%A7%DB%92-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88/id1405181675

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG